ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا میں پاکستان‘ چین اور یوکرائن کے اشتراک سے تیار ہونے والے الخالد 1 ٹینک کی فائر پاور کا مشاہدہ کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے دشمن طاقتوں کو انتباہ کیا کہ ’’کسی نے ہمیں مشتعل کیا اور جارحیت کا ارتکاب کیا تو پوری قوت سے جواب دیں گے‘‘۔ آرمی چیف نے کہا کہ امن کے لئے مضبوط دفاع اور پیشہ وارانہ تیاریاں ناگزیر ہوتی ہیں۔ آئی ایس پی آر کی جاری تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ جنگ کے دوران الخالد ٹینک کا کردار اہم اور فیصلہ کن ہو گا۔ پاکستان کے بین الاقوامی تعلقات عموماً پرامن بقائے باہمی کے اصول پر استوار ہیں۔ پاکستان نے ہمیشہ مسلح تنازعات کو پرامن طریقے سے طے کرنے کی حمایت کی۔ قبرص‘ فلسطین اور کشمیر کے متعلق پاکستان کا موقف اقوام متحدہ کے چارٹر اور انسانی حقوق کے اصولوں کے عین مطابق رہا ہے‘ دنیا میں پائے جانے والے تنازعات پر پاکستان کا کہیں کوئی اثر اگر موجود تھا تو اس نے اس رسوخ کو ثالثی‘مصالحت اور رابطہ کاری کی خدمات کے ذریعے پیش کیا۔ پاکستان کی جانب سے ایران اور عرب ممالک کے درمیان مصالحت کی کوششیں ریکارڈ پر ہیں۔ سری لنکا میں قیام امن کی خاطر پاکستان کے کردار کو دنیا نے تسلیم کیا۔ آزادی کے وقت قتل و غارت نے پاکستان اور بھارت کے تعلقات کی نوعیت بدل دی۔ کشمیر پر اہل کشمیر کی مرضی کے خلاف بھارتی قبضے نے سیاسی اختلاف کو ریاستی دشمنی میں تبدیل کر دیا۔ دونوں ملکوں کے درمیان کشمیر کے معاملے پر چار جنگیں ہو چکی ہیں۔ بے شمار جھڑپوں اور آئے روز کنٹرول لائن پر گولہ باری اس کے سوا ہے۔ ہزاروں سپاہی اور شہری اس دشمنی کی بھینٹ چڑھ چکے لیکن تنازع طے پانے کی بجائے نئے تنازعات از قسم دریائی پانی کی تقسیم‘ تجارتی مراعات اور عوامی سطح پر دو طرفہ رابطے تعطل کا شکار ہیں۔ یہ تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات اچھی اور پرامن ہمسائیگی پر مشتمل ہوتے تو یہ خطہ دنیا میں ترقی کے حوالے سے سب سے آگے ہوتا۔ جنوبی ایشیا کو افرادی قوت‘ تمام موسموں‘ ہر قسم کی زمین اور جغرافیائی لحاظ سے ایک منفرد حیثیت ہے۔ صدیوں پہلے یہ علاقہ سونے کی چڑیا کہلاتا تھا۔ انگریز کی آمد اور پھر ہندو اکثریت پر مشتمل سیاسی نظام کی تشکیل کی کوششوں نے برصغیر کے مسلمانوں کو اپنی الگ شناخت کو محفوظ کرنے کا شعور عطا کیا۔ اس شعور نے دو قومی نظریہ کی شکل میں ظہور کیا۔ پاکستان قائم ہوا تو قائد اعظم محمد علی جناح نے دونوں نو آزاد ریاستوں کے مابین امریکہ اور کینیڈا جیسے خوشگوار تعلقات کی خواہش ظاہر کی۔ بھارت کی جانب سے کشمیر پر قبضے سے یہ خواہش پوری نہ ہو سکی۔ پاکستان اور قبائلی مجاہدین نے جب کشمیریوں کی مدد کر کے کچھ علاقہ آزاد کروا لیا تو بھارت خود اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں گیا اور استصواب رائے کے وعدے کے بدلے جنگ بندی کی درخواست کی۔ پاکستان نے جنگ بندی معاہدہ کے بعد لڑائی روک دی۔72برس ہو چکے ہیں اس وعدے کو لیکن ابھی تک بھارت تنازع کے سیاسی و سفارتی حل کے لئے کی گئی کوششوں کو سبوتاژ کرتا آیا ہے۔ بی جے پی اقتدار میں آئی تو اس نے بھارت کو عالمی تجارت میں نمایاں مقام دلانے کے لئے نئی پالیسیاں متعارف کرائیں۔ ان پالیسیوں کے مثبت نتائج حاصل کرنے کے لئے خطے میں امن درکار تھا۔ شروع میں دو طرفہ کوششیں دکھائی دیں لیکن اٹل بہاری واجپائی کے بعد بی جے پی نے قومی ترقی کے منصوبوں کی جگہ اسلحے کی دوڑ شروع کر دی۔ بھارت کے جنگی جنون نے گزشتہ برس پاکستان سے چھیڑ خانی کو ایک موقع پر تشویشناک صورت حال سے دوچار کر دیا جب اس کے دو طیاروں کو فضائی حدود کی خلاف ورزی پر پاکستان نے مار گرایا۔ اس واقعہ کے بعد بھی بھارت کی اشتعال انگیزیاں جاری ہیں جن پر پاکستان نے ہمیشہ تحمل کا مظاہرہ کیا اور بار بار عالمی ادارے اور بڑے ممالک سے کردار ادا کرنے کو کہا۔ دوسری طرف بھارت نے ہٹ دھرمی جاری رکھی۔ پاکستان ہی نہیں چندماہ قبل لداخ میں لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر چینی فوجیوں سے لڑائی شروع کر دی جس میں اسے شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ امر یقینا باعث حیرت ہے کہ دنیا جب اپنے تمام جھگڑے اور معاملات کو ایک طرف رکھ کر کورونا کی تباہ کاریوں سے نمٹنے میں مصروف ہے‘ریاستیں ایک دوسرے سے تعاون کر رہی ہیں اور وبا کے خاتمے کے بعد بہتر تعلقات کا عزم ظاہر کر رہی ہیں ایسے میں بھارت نے اپنے دفاعی بجٹ کو 73.65ارب ڈالر کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ اس رقم سے نئے اور جدید ہتھیار خریدے جا رہے ہیں۔ چند روز قبل ہی فرانس سے رافیل لڑاکا طیاروں کی پہلی کھیپ بھارت پہنچی ہے۔ بھارت نے اس بجٹ میں سے 18.52ارب ڈالر صرف ہتھیاروں کی خریداری کے لئے مختص کئے ہیں۔ بھارت کی جنگی تیاریوں نے پاکستان کے لئے بجا طور پر خطرات پیدا کر دیے ہیں۔ اس صورت حال میں پاکستان خاموش نہیں رہ سکتا۔ پاکستان نے ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کے بعد عالمی مارکیٹ سے ہتھیاروں کی خریداری کافی حد تک کم کر دی ہے۔ زیادہ تر ضروریات مقامی سطح پر پوری کی جا رہی ہیں۔ پاکستان کے جدید لڑاکا طیارے جے ایف 17تھنڈر کئی ممالک کی توجہ حاصل کر چکے ہیں۔ گزشتہ ہفتے ان طیاروں نے برطانیہ میں ایک ایئر شو کے دوران زبردست صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔ الخالد دنیا کے بہترین ٹینک شمار ہوتے ہیں۔ پاکستان نے یہ ہتھیار اور دفاعی ٹیکنالوجی کسی جارحیت کے لئے نہیں بلکہ جارحیت سے دفاع کے لئے استعمال کی جا رہی ہے۔ آرمی چیف نے دشمن کو بجا طور پر خبردار کیا ہے کہ پاکستان امن چاہتا ہے لیکن جارحیت کے ارتکاب پر اس کا جواب بھر پور ہو گا۔