میجر (ر) آفتاب سے تعارف برادرم فرخ سہیل گوئندی نے دالیم شریف الحق ‘کی کتاب کے مترجم کے طور پر کرایا‘ چند ملاقاتوں میں لگا کہ حب الوطنی کے پیکر میجر آفتاب پاکستان کو قرار واقعی اقبالؒ و قائدؒ کے خوابوں کی تعبیر‘ اسلام اور جمہوریت کا گہوارہ دیکھنے کے متنی ہیں اور اس مقصد کے حصول کے لئے جوانی سے بڑھاپے کے سفر جہد مسلسل میں مگن ‘میجر آفتاب گزشتہ روز اپنی تازہ تصنیف ’’ہارن کھیڈ فقیرا(خود نوشت)دے کر گئے تو سرسری ورق گردانی کے دوران ضخیم کتاب کے سینکڑوں صفحات پڑھ ڈالے۔ جنرل ضیاء الحق دور میں پانچ جرنیلوں کو بیک جنبش قلم ریٹائر کیا گیا تھا جو چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کے قابل اعتماد ساتھی سمجھے جاتے تھے‘ ان کی ریٹائرمنٹ کیسے ہوئی؟ ایوان اقتدار میں کیسے دوست‘ دشمن اور اپنے بیگانے ہوتے ہیں میجر آفتاب نے کتاب میں پانچ جرنیلوں کی فراغت کی دلچسپ کہانی بیان کی ہے، لکھتے ہیں۔ ’’ہاں آفتاب ‘کہو‘‘ اس نے میری آنکھوں پر مستقل چڑھا کولہو کے بیل والا کھوپا اتروا دیا۔شریف النفس بریگیڈیئر کچی نیند کا مارا بہت تھکا ہوا لگ رہا تھا۔ ’’سر‘آج میں آپ کو بالآخر جنرل گروپ کے بارے میں سب کچھ بتا دینا چاہتا ہوں‘‘ ’’کیا واقعی؟‘‘ اس کی آنکھیں پھیل گئی تھیں اور تھکاوٹ جیسے ہوا ہو گئی۔ سر سے پائوں تک ایک گہرے عمیق عالم حیرت میں غرق ہوتے ہوئے وہ مجھے تکے جا رہا تھا۔ ’’میں اس معاملے سے تنگ آ چکا ہوں ۔میں اور میرے ساتھی موت کے دہانے پر کھڑے ہیں اور وہ براس بینڈ کی دھنوں میں سلامیاں لے رہے ہیں۔ وقت آ گیا ہے کہ وہ بھی یہاں ہوں’’حفظ مراتب کی فہرست میں نے پھاڑ دی تھی۔بڑے اور چھوٹے ہم سب ملزمان ایک کشتی کے سوار تھے۔ ’’ٹھہرو۔۔۔رکو‘‘ شاید بریگیڈئر خالد کبھی ملٹری پولیس میں بھی رہے ہوں۔ انہوں نے کمال چابکدستی سے بازو کھڑا کرتے ہوئے مجھے رکنے کا کہا اور تیز تیز قدموں کمرے سے نکل گئے۔ ’’سر‘ساری۔آپ کو بے وقت ڈسٹرب کر رہا ہوں‘ کھلے دروازے کے بالمقابل کمرے سے ان کی آواز ابھری۔۔۔۔میجر آفتاب بالآخر جنرل گروپ کی گتھی کھولنے پر راضی ہو گیا ہے’’بریگیڈئر فون پر کسی سینئر سے مخاطب تھا۔ وہ کون ہو سکتا تھا؟میں نے گھوڑا دوڑایا۔ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی یا ڈائریکٹر ملٹری انٹیلی جینس ‘ مجھے خیال آیا۔جہنم میں جائے۔ وہ کوئی بھی ہو۔ بیان میرے حلق تک پہنچ گیا تھا۔ مجھے قے ہو سکتی تھی۔ اسے مزید روکنا میرے لبے بھی اب ناممکن تھا۔‘‘ کمرے میں کسی کی آمد کی سرسراہٹ ہوئی، میرادل دھک دھک کر رہا تھا جیسے اچھل کر باہر آ جاتا۔دل ہی دل میں بھاگتے دوڑتے انجان چوہوں کے ہاتھوں مجھے اپنے جال کے کئی گھر کٹتے ہوئے محسوس ہوئے۔یہ بھی تو ممکن تھا میری کہانی بری طرح فلاپ ہو جاتی اور قہقہے لگاتے ہوئے توپچی جنرل اختر کو مطلوب پیدل دستوں کے سینئر جنرل سب کے سب جال سے نکل جاتے جنگلی کبوتروں کی اس ڈار کے مانند جو اتحاد و اتفاق سے پورے جال کو لے اڑی اور شکاری ہاتھ ملتا رہ گیا۔ کوئی پیشگی اطلاع مل جانے پر ہدف کا ‘پنجہ‘ پلٹ کر اگلے سات سالوں کے لئے کوئی جوابی وار بھی تو کر سکتا تھا‘ پھر کیا ہوتا؟اپنے ہی جال میں کسمساتے ہوئے میں تفکرات اندیشوں اور وہم و گمان کے تابڑ توڑ حملوں کی زد میں تھا۔‘‘ ’’اس کی پٹی کھول دو‘‘ وہ جنرل اختر تھے۔ برق کی سی تیزی کے ساتھ لپکی میں نے اس آواز کو پہچان لیا تھا جو نیلم وادی سے نکلتے کشن گنگا کنارے پانچویں بریگیڈ کے جی تھری کے چٹکی بھر وجود سے رہ رہ کر دریا کی پر غضب لہروں کی طرح ٹکراتی رہی تھی۔کھوپا اتر گیا۔ پٹی کھل گئی۔ چنار ڈویژن کا سابق کماندار جنرل میز کے پیچھے رکھی بلند اور واحد کرسی پر اکڑوں بیٹھا ہوا تھا۔ اس کے چہرے پر کھچائو بڑا واضح تھا اور وہ مجھے بوڑھا لگ رہا تھا۔ میں نے سلام کیا اور اس نے سر کی ہلکی سی جنبش سے اس کا جواب دیا۔ اقتدار کے اژدہے اور آئی ایس آئی نے اس کی سدا بہار جوانی چوس لی تھی۔ ’’Sir you have grown so old?‘‘(سر آپ اتنے بوڑھے لگ رہے ہیں)سرخ و سپید ہینڈسم امرتسری پٹھان جنرل کی سفید بھنوئوں کو دیکھتے ہوئے میں نے بے ساختہ پہل کر دی تھی۔‘‘ ’’خالد‘تم اس کا کچھ بگاڑ نہیں سکے۔۔۔۔وہ ہلکے سے مسکرا دیا۔۔۔۔۔یہ میرا افسر ہے‘ میں اسے خوب جانتا ہوں۔یہ پہلے بھی یہاں ہو سکتا تھا’’یقینا کوئی فلم اس کے دائیں بائیں اور عقبی تینوں پردوں پر چل پڑی تھی۔’’بیٹھ جائو۔۔۔۔اسے کرسی دو‘‘ ہر کارے نے قیدیوں کے لئے مخصوص سٹول اٹھا کر بازوئوں والی کوئی نرم نشست کرسی وہاں رکھ دی ۔دو ماہ میں پہلی دفعہ مجھے اس جنرل کے طفیل کسی آرام دہ کرسی پر بیٹھنے کا موقع ملا تھا جسے میں نے نیلم کنارے چیف کے سامنے کٹہرے میں کھڑا کر دیاتھا اور اب میں کٹہرے میں اور وہ چیف کا بازوئے شمشیر زن تھا۔اندرونی اور بیرونی ہر دو محاذوں کے لئے دو دھاری کلہاڑا جس کا انتخاب یقینا مقدر بھری اسی رات ہوا تھا۔ ’’تم نے یہ کیا کیا؟۔۔۔۔اپنی حکومت کے خلاف!اس سے پہلے ہم یوں تھے۔۔۔۔جنرل نے اپنی پیشانی پر ہاتھ مارا اور پھر دونوں ہاتھوں کے پنجوں کو آپس میں جکڑتے ہوئے اشارہ کیا۔۔۔۔تم جیسا نوجوان افسر آخر کیوں اتنا بے چین نکلا؟‘‘ ریاست کے سب سے بڑے ’جاسوس‘ نے بنیادی وجوہ کی ٹوہ لگانے کی سرسری سی کوشش کی۔‘‘ ’’چھوڑو ان فضول باتوں کو۔۔۔۔خلاف توقع وہ مشتعل ہوا نہ مجھے اس کی پیشانی پر کوئی شکن ابھرتی دکھائی دی۔۔۔۔میں تمہارے یا تمہارے ساتھیوں کے تعاقب میں نہیں۔ میں جانتا ہوں تم لوگوں کا اتنی بڑی سوچ سے کوئی تعلق نہیں ہو سکتا۔ مجھے بتائو وہ جنرل کون کون سے ہیں جو حکومت کا تختہ الٹنا چاہتے ہیں؟‘‘ وہ بظاہر پرسکون تھا لیکن جیسے اندر ہی اندر مضطرب ‘ بے سکون اور بے چین۔بات کرتے کرتے اس نے سفید بھنوئوں کا کوئی لمبا بال جھٹکے سے اکھاڑ پھینکا تھا۔ اس کے چہرے پر یونیفارم اور بوٹوں پر 65,48اور 71کے پاک بھارت معرکوں کی اگلی صفوں کی گرد کبھی پڑی تھی نہ ہی کسی جہادی مورچے میں کھڑا ہونے کی ضرورت پیش آئی۔ لیکن ستلج کنارے راکھ ہونے سے پہلے یہ آخری معرکہ اس کے اور اس کے باس کے لئے کڑا امتحان بن کر آیا تھا اور اسے کسی حقیر قیدی کی مدد سے اپنی شاہراہ میں رکاوٹ پانچ‘ہوائی چکیوں‘ کو اپنے استاد فیلڈ مارشل منٹگمری کے سنہری الفاظ میں گہری‘دو طرفہ لپیٹ میں لینا تھا۔ اس لمحے کون جان پاتا کہ چٹکی بھر میجر کے جال کی تند اور گانٹھ بنتے ہوئے وہ انہیں اس خوبی سے لپیٹتا کہ کھولی کا جولاہا خود اور جنرل کے رفقاء اسے کبھی بھلا نہ پاتے۔‘‘ ’’قصہ مختصر اس رات گئے میں نے انہیں بتا ہی دیا کہ مصطفی کھر پوٹھوہاری جرنیلوں کے ایک گروہ سے رابطے میں تھا۔ جن کے نام وہ آخری کارروائی سے پہلے صیغہ راز میں رکھ رہا تھا۔ادھر غلام مصطفی جتوئی نے میرے ساتھ دو خفیہ ملاقاتوں میں اپنے عزیز سندھ کے مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر جنرل ایس ایم عباسی کے بارے میں بوقت ضرورت پوری تسلی دی تھی۔۔۔جنرل شمس الرحمان کلو سے تو میری ذاتی ملاقاتیں بھی ہو چکی تھیں اگرچہ وہ مارشل لاء کے مخالف ہونے کے باوجود جنرل ضیاء کو آئین بحال کرنے کے لئے مزید موقع دینے کے حق میں تھے لیکن میرے مارشل لاء کے خاتمے اور آئین کی بحالی کے بارے میں جرائم کی یہ کیا معمولی گواہی تھی؟میں نے پہلی بار مختصراً ان تمام کہانیوں اور رابطوں کی بھی تصدیق کر دی جن کی خبریں میرے ساتھی اپنے تفتیشیوں کو مسلسل دیتے رہے تھے۔‘‘ ’’تمہارے پی پی والے دوست میرے بارے میں کیا کہا کرتے تھے‘‘جنرل نے زیر لب مسکراتے ہوئے مجھے پوچھا۔،یہ سوال کرتے ہوئے اس کے چہرے کی لالی میں ہلکا سا اضافہ ہو گیا تھا۔ یقینا وہ چاہتا تھا کہ میرا جواب اس کے بارے میں بڑھ چڑھ کے ’مثبت‘ ہوتا۔ ’’وہ آپ کو اور جنرل ضیاء کو ایک ہی نظر سے دیکھتے ہیں‘‘ میرا جواب اس کے لئے تسلی بخش ہی نہیں باعث راحت بھی ہوا۔ اس نے ترچھی نگاہ سے بریگیڈیئر خالد کی طرف دیکھا جیسے یقین کر رہا ہو میرا دل خوش کن جواب اس نے بھی سنا تھا۔ صیغہ سراغرسانی میں کون کس کا تھا۔ کون جانتا۔؟ (جاری ہے)