معزز قارئین!۔ 3 ربیع الاوّل بروز جمعہ ،یکم نومبر کو ، جب مَیں نے الیکٹرانک میڈیا پر اسلام آباد کے پشاور موڑ پر امیر جمعیت عُلماء اسلام ( فضل اُلرحمن گروپ ) کو خطاب کرتے ہوئے دیکھا اور سُنا تو، سٹیج پر کھڑے ہُوئے اُن کے ایک باریش نوجوان کارکن نے نعرے لگائے ’’ قائد ِ ملّت اسلامیہ ،مولانا فضل اُلرحمن زندہ اور قائد ِ انقلاب مولانا فضل اُلرحمن زندہ باد ‘‘ تو، مجھے کوئی خاص تعجب نہیں ہُوا تھا کہ ہر دَور میں ہر سیاسی اور مذہبی جماعت کے کارکن اپنے قائد کے بارے میں اِسی طرح کے نعرے لگاتے ہیں ۔ قائداعظم ؒکے دست راست ، تحریک پاکستان کے نامور قائد اور پاکستان کے وزیراعظم لیاقت علی خان ؒ کو، قوم نے ’’قائدِ ملّت ‘‘ کا خطاب دِیا تھا۔ فضل اُلرحمن صاحب نے خُود کو ’’ قائد ِ ملّت اسلامیہ‘‘ کرانے کی کوشش کی ہے؟۔ عربی زبان کے لفظ انقلاب ؔ کے معنی ہیں ’’حالات کا بدلنا ، اُلٹ پلٹ کرنا یا ہونا ‘‘۔ جب وطن عزیز میں پہلے منتخب صدر ، میجر جنرل (ر) سکندر مرزا نے 7 اکتوبر 1958ء کو مارشل لاء نافذ کِیا تو، اُن کی کابینہ میں شامل ذوالفقار علی بھٹو سمیت تمام وزراء نے اُنہیں ’’ قائد ِ انقلاب‘‘ کا خطاب دِیا۔ بھٹو صاحب نے تو، فوراً ہی اپنے ایک خط میں صدر سکندر مرزا کو لکھا کہ ’’ جناب ِ صدر !۔ آپ قائداعظمؒ سے بھی بڑے لیڈر ہیں ‘‘ لیکن، 20 دِن بعد 27 اکتوبر کو، جب، آرمی چیف جنرل محمد ایوب خان نے سکندر مرزا کو برطرف اور جلا وطن کر کے خود اقتدار سنبھال لِیا تو، جنابِ بھٹو اور اُس قبیل کے دوسرے سیاستدان بھی نئی مارشلائی کابینہ میں شامل تھے اور جنابِ بھٹو نے تو، صدرِ محمد ایوب خان کو اپنا "Daddy" بنا لِیا اور جب تک ( جون 1966ء تک ) صدر ایوب خان کی کابینہ کے رکن رہے تو، وہ اپنے "Daddy" کو غازی صلاح اُلدّین ؔایوبی ثانی اور ’’ ایشیا کا Deagle‘‘ مشہور کرنے کی کوشش بھی کرتے رہے ؟۔ 2 جنوری 1965ء کو صدارتی انتخاب کا اعلان کِیا گیا ۔ کنونشن مسلم لیگ کے صدر ( صدرِ پاکستان) محمد ایوب خان کے مقابلے میں ، قائداعظمؒ کی ہمشیرہ ’’ مادرِ ملّت ‘‘ محترمہ فاطمہ جناح ؒمتحدہ اپوزیشن کی امیدوار تھیں تو، فضل اُلرحمن صاحب کے (والدِ مرحوم )، اپنی ’’ جمعیت عُلماء اسلام ‘‘ کے ناظم ِ اعلیٰ مفتی محمود صاحب نے فتویٰ دِیا تھا کہ ’’ کوئی عورت کسی اسلامی مملکت کی سربراہ نہیں ہوسکتی۔ پھر مفتی محمود صاحب کی صدر محمد ایوب خان سے گہری دوستی ہوگئی اور وہ صدر ایوب خان کو ’’قائد ِ انقلاب ‘‘ کا درجہ ہی دیتے رہے۔ صدر محمد ایوب خان کی کابینہ سے الگ ہو کر 30 نومبر 1967ء کو جناب ِ ذوالفقار علی بھٹو کی چیئرمین شِپ میں ’’ پاکستان پیپلز پارٹی‘‘ قائم ہُوئی تو، اُن کے ساتھیوں اور عقیدت مندوں نے اُنہیں ’’قائدِ انقلاب‘‘ کا خطاب دِیا۔ جنابِ بھٹو نے بھی غریبوں کے حق میں انقلابؔ لانے کا وعدہ / اعلان کِیا تھا لیکن، نہیں لا سکے ، پھر غریبوں کی بددُعائوں سے وہ غیر فطری موت کا شکار ہُوئے ۔اُن کی بیٹی محترمہ بے نظیر بھٹو اور دونوں بیٹے میر مرتضیٰ بھٹو اور شاہنواز بھٹو بھی۔ جنوری 2013ء میں کینیڈا سے واپس آ کر ’’ادارہ منہاج اُلقرآن ‘‘ کے سربراہ علاّمہ طاہر اُلقادری نے ’’ شیخ اُلاسلام‘‘ کا لقب اختیار کر کے ، خُود کو ’’ قائد ِ انقلاب‘‘ مشہو ر کِیا لیکن، پھر واپس کینیڈا چلے گئے اور جب 1978-79ء میں سیّد روح اللہ موسوی خمینی ، المعروف امام ؔخمینی ایران میں انقلاب ؔ لائے تو، اُس کے بعد پاکستان کے کئی مذہبی لیڈروں نے خُود کو ’’ قائد ِ انقلاب‘‘ مشہو ر کرنے کی کوشش کی لیکن، انقلاب لانا کوئی مذاق تو ، نہیں ہے ؟ ۔ ’’امام حسین علیہ السلام‘‘ فضل اُلرحمن صاحب کی ’’ جمعیت عُلماء اسلام ‘‘ اور اُن کے مسلک کے دوسرے مذہبی لیڈروں نے کبھی 12 ربیع الاوّل کو عید میلاد اُلنبی ؐ نہیں منائی اور نہ ہی ۔ محرم اُلحرام میں ’’ سیّد اُلشہدا امام حسین علیہ السلام اور سانحہ کربلا میںشہید ہونے والے دوسرے شُہدا کو یاد کِیا ؟لیکن، 3ربیع الاوّل بروز جمعہ ، یکم نومبر کو ، فضل اُلرحمن صاحب نے خُود کو نواسۂ رسول ؐ کا پیرو کار ظاہر کِیا اور امامِ عالی کے نام کے ساتھ علیہ السلام بھی کہا؟۔ مَیں فضل اُلرحمن صاحب کی خدمت میں سیّد اُلشہدا امام عالی مقام کی خدمت میں پیش کی گئی اپنے ایک منقبت کے دو شعر پیش کر رہا ہُوں کیا ہی اچھا ہو کہ ’’ فضل اُلرحمن صاحب اپنے جلسوں میں یہ شعر خُود یا اپنے کارندے سے حاضرین کو سُنا کر ثواب حاصل کریں ؟ … صاحب کردار ، فخر مِلّت ، بَیضا، حُسین ؑ! کار گاہِ کُن فکاں میں ، مُنفرد، یکتا ،حُسین ؑ! سیّد اُلشہدا، حُسین ؑ …O… اُن کا نصب اُلعین، تخت و تاج تو ،ہر گز نہ تھا! رَزم گاہ میں ، دین کی خاطر تھے ، صف آرا، حُسین ؑ! سیّد اُلشہدا، حُسین ’’قائداعظم رحمتہ اللہ علیہ‘‘ معزز قارئین!۔ فضل اُلرحمن صاحب ، اُن کے بزرگوں ، ساتھیوں اور عقیدت مندوں نے کبھی بھی قائداعظمؒ کا نام احترام سے نہیں لِیا۔ ہر کوئی اُنہیں محمد علی جناح ؒ یا مسٹرجناحؒ کہتا تھا / ہے ۔ 1993ء میں روزنامہ ’’ جنگ ‘‘ کے ’’ سنڈے میگزین‘‘ میں اپنے انٹرویو میں فضل اُلرحمن صاحب نے کہا تھا کہ ’’ محمد علی جناحؒ کوئی پیغمبر نہیں تھے کہ اُن پر تنقید نہیں کی جاسکتی‘‘۔ فضل اُلرحمن صاحب نے اور بھی کئی جگہ قائداعظمؒ کے خلاف ہرزہ سرائی کی ہے ، جو مَیں اکثر بیان کرتا رہتا ہُوں۔ یکم نومبر کے ’’ آزادی مارچ‘‘ سے خطاب کرتے ہُوئے فضل اُلرحمن صاحب نے بانیٔ پاکستان کو ’’قائداعظمؒ ‘‘تسلیم کرتے ہُوئے کہا کہ ’’ قائداعظم محمد علی جناح ؒ نے (15 جولائی 1948ء کو ) سٹیٹ بینک آف پاکستان کا افتتاح کرتے ہُوئے کہا تھا کہ ’’ مغربی معیشت نے سوائے جنگوں کے اور سوائے فسادات تباہیوں کے ہمیں کچھ نہیں دِیا۔ ہم مغربی مُعیشت کو تسلیم نہیں کرتے ، ہم قرآن و سُنت کے مطابق پاکستان میں معاشی نظام چلائیں گے ‘‘ پھر فضل اُلرحمن صاحب نے ’’ آزادی مارچ‘‘ کے شُرکاء سے کہا کہ ’’ آج قائداعظمؒ کی رُوح ( حکمرانوں سے ) پوچھ رہی ہے کہ ’’ کہاں ہے وہ مُعیشت ، جس کے تصّور کو مَیں نے پاکستان بنایا تھا اور آج تُم نے میرے پاکستان کو غلام بنا دِیا ہے؟۔ ’’قائداعظمؒ کے شیدائی‘‘ معزز قارئین!۔ مَیں فضل اُلرحمن صاحب کو قائداعظمؒ کے شیدائی کا کردار ادا کرنے پر مبارک باد پیش کرتے ہُوئے قائداعظمؒ کے بارے میں لکھی اپنی نظم کے تین شعر پیش کر رہا ہُوں … نامِ محمد مصطفیٰؐ نامِ علی ؑ عالی مقام! کِتنا بابرکت ہے ، حضرت قائداعظمؒ کا نام؟ …O… ٹوٹ کر، گِرنے لگے، ہر سُو، اندھیروں کے صَنم! رَزم گاہ میں ، آیا جب، وہ عاشقِ خَیرُ الانامؐ! …O… سامراجی مُغ بچے بھی ، اور گاندھی ؔکے سپُوت! ساتھ میں رُسوا ہوئے، فتویٰ فروشوںؔ کے اِمام! فضل اُلرحمن صاحب!۔ ’’سٹیٹ بینک آف پاکستان ‘‘ کے حوالے سے مجھے بھی ایک واقعہ یاد آ گیا ۔ ’’ محترمہ بے نظیر بھٹو کی وزارتِ عظمیٰ کے دوسرے دَور میں ، وزیر داخلہ میجر جنرل ( ر) نصیر اللہ خان بابر نے میڈیا سے خطاب کرتے ہُوئے کہا تھا کہ ’ ’ مَیں نے میڈم وزیراعظم سے صاف صاف کہہ دِیا ہے کہ ’’ خواہ آپ ’’سٹیٹ بینک آف پاکستان ‘‘کی چابیاں بھی فضل اُلرحمن صاحب کے حوالے کردیں تو، بھی وہ خُوش نہیں ہوں گے ‘‘۔ پھر ایک صحافی نے فضل اُلرحمن صاحب سے پوچھا کہ ’’ مولانا !۔آپ وزیر داخلہ پر ہتک ِ عزّت کا دعویٰ کیوں نہیں کرتے؟ ‘‘۔ تو اُنہوں نے کہا کہ ’’ مَیں نے یہ معاملہ اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دِیا ہے ‘‘۔ سوال یہ ہے کہ ’’ تازہ بتازہ ’’قائدِ انقلاب ‘‘ وزیراعظم عمران خان کا معاملہ اللہ تعالیٰ پر کیوں نہیں چھوڑ دیتے؟۔ بہرحال مَیں اُن کی خدمت میں اپنے دوست ’’ شاعرِ سیاست‘‘ کی طرف سے اُن کے یہ دو شعر پیش کر رہا ہُوں … لوگ کرتے ہیں سبھی، کارِ ثوابِ مُک مُکا! کوئی بھی ، بن سکتا ہے ، عزّت مآب ِ مُک مُکا! …O… شاید ہو برپا کبھی تو، انقلابِ ِ مُک مُکا! مسند ِ زرّیں پہ جا بیٹھیں ، جنابِ مُک مُکا!