مکہ المکرمہ(صباح نیوز) امام کعبہ محمد بن حسن آل الشیخ نے خطبہ حج دیتے ہوئے کہا ہے کہ امت مسلمہ نفرتوں کو مٹا دے ، اپنے آپ کو سیاسی طور پر مضبوط کرے ، اسلام کی حقیقی تصویر اعلیٰ اخلاق ہے ، اﷲ غرور اور تکبر کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا، آج مسلمانوں کو اپنے سیاسی اور معاشی حالات دین کے مطابق ڈھالنے کی ضرورت ہے ۔ ا نہوں نے مسجد نمرہ سے خطبہ حج دیتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کو تقوی کا راستہ اختیار کرنا چاہئے ، جو اﷲ سے ڈرتا ہے ، اﷲ اسے دنیا و آخرت کے ڈر سے نجات دلاتا ہے ، نجات کا راستہ صرف اﷲ کی رسی کو مضبوطی سے تھامنے میں ہے ، اﷲ نے قرآن میں فرمایا جدا جدا راستے نہ اختیار کئے جائیں، امت مسلمہ میں جس قدر محبت ہوگی ،اسی قدر امن ہوگا۔ انہوں نے کہا اپنے والدین کے ساتھ بھلائی کا راستہ اختیار کریں، والدین کے بعد رشتے داروں سے اچھا رویہ اختیار کریں، نبی کریم نے فرمایا، تم زمین والوں پر رحم کرو، اﷲ تم پر رحم فرمائے گا، رحم دلی سے آپس میں تعاون اور بھائی چارہ قائم کرو، امت کو چاہیے ایک دوسرے سے شفقت کا معاملہ رکھے ، نفرتیں ختم کرے ، انسان ہو یا جانور، سب سے رحمت کا معاملہ کریں۔ خطبہ حج میں کہا گیا کہ اﷲ کی خصوصی رحمت اور فضل کے باعث انسان جنت میں داخل ہوگا، تقویٰ کا راستہ اختیار کرنے میں ہی فلاح ہے ، اﷲ کی بارگاہ میں سجدہ ریز رہیں، تلاوت قرآن پاک کی عادت بنائیں، جو اپنے نفس کا تزکیہ کرتا ہے اﷲ اسے پاکی عطا فرماتا ہے ، فرض نماز کی پابندی کرو، نماز اسلام کا اہم رکن ہے ، بیشک اﷲ کی رحمت احسان کرنیوالوں کے قریب ہے ، اﷲ کی رحمت سے ہی ہم شیطان کے وسوسوں سے بچے رہتے ہیں، مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے ، مومن ایک دوسرے کیلئے مغفرت کی دعا کریں۔ خطبہ حج میں کہا گیا کہ برائی کو روکیں، اﷲ اور اس کے رسول کی اطاعت کریں، اہل ایمان اﷲ سے رحمت مانگیں، فرشتے اہل ایمان کیلئے رحمت کی دعا کرتے ہیں، غلطیاں معاف کرنے سے بھائی چارے کی فضا پیدا ہوتی ہے ، اپنے گناہوں سے توبہ کرو، اﷲ کی رحمت کے دروازے کھلے ہیں، حجاج کرام ! آپ لوگ وہاں موجود ہیں جہاں رحمتوں کا نزول ہو رہا ہے ، حجاج کرام دعا میں مشغول رہیں، سب کیلئے دعائیں کریں، نبی کریم نے بچوں کے ساتھ رحم دلی کی تلقین فرمائی ۔امام الشیخ محمد بن حسن آل الشیخ نے مزید کہا کہ سعودی حکومت کی کوشش سے حجاج کو ہرقسم کی سہولت مل رہی ہے ۔مفتی اعظم نے سعودی عرب میں حاجیوں کی سکیورٹی پر مامور اہلکاروں، بہترین انتظامات کرنے والے منتظمین اور دیگر اداروں کا شکریہ ادا کیا اور ان کیلئے دعائے خیر کی۔امام الشیخ محمد بن حسن آل الشیخ نے خطبے کے آخر میں مسلم امہ کو تلقین کی کہ تلاوت قرآن پاک کو اپنی عادت بنائیں۔گزشتہ روز منیٰ میں قیام کے بعد عازمین ہفتہ کی صبح یعنی 9 ذی الحج کو میدان عرفات میں جمع ہوئے اور حج کا رکن اعظم یعنی وقوف عرفہ ادا کیا۔ خطبہ سننے کے بعد حجاج کرام نے نماز ظہر اور عصر ایک ساتھ ادا کی۔عازمین غروب آفتاب کے ساتھ ہی میدان عرفات سے مزدلفہ روانہ ہوگئے جہاں انہوں نے نمازِ مغرب اور عشا ایک ساتھ ادا کی، آج 10 ذی الحجہ کو طلوع آفتاب کے بعد حجاج کرام مزدلفہ سے رمی کیلئے جمرات جائیں گے ، پھر قربانی کے بعد سر منڈوا کر احرام کھول دیں گے اور طواف زیارت کریں گے ۔