کابینہ کے اجلاس میں وفاقی دارالحکومت میں بلدیاتی انتخابات کروانے کی منظوری اور الیکٹرانک ووٹنگ مشین اور انٹرنیٹ ووٹنگ کا طریقہ کار طے کرنے کے لیے کمیٹی قائم کی گئی ہے۔ حکومت نے اقتدار میں آتے ہی اصلاحات کا جواز بنا کر بلدیاتی ادارے معطل کر دیئے تھے۔ مقامی حکومتوں کے حوالے سے حکومتی دلچسپی کا اندازہ اس بات سے بھی ہو جاتا ہے کہ گزشتہ ایک برس بلدیاتی نظام کی پنجاب اسمبلی سے منظوری کے بعد بھی حکومت بلدیاتی اداروں کو بحال کرنے میں لیت لعل سے کام لیتی رہی یہاں تک کہ عدالت کو بلدیاتی ادارے بحال کرنا پڑے ۔ اب جبکہ بلدیاتی ادارے اپنی مدت پوری کر چکے ہیں تو حکومت نے بلدیاتی انتخابات کروانے کا فیصلہ کیا ہے اور حکومت وفاقی دارالحکومت سے بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کا آغاز کر رہی ہے۔ دوسری طرف حکومت اپنے اصلاحات بل اور آئندہ انتخابات میں ای وی ایم کے استعمال کا بل بھی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں منظور کروا چکی ہے، جس پر اپوزیشن نے تحفظات کا اظہار بھی کیا ہے۔ اب وفاقی کابینہ نے انٹرنیٹ ووٹنگ اور ای وی ایم کا طریقہ کار طے کرنے کے لیے کمیٹی قائم کی ہے تا کہ اپوزیشن کو اعتماد میں لیا جا سکے۔ بہتر ہو گا حکومت اپوزیشن کو بلدیاتی انتخابات میں ای وی ایم کے استعمال اور ٹرائل پر آمادہ کرے تا کہ عام انتخابات سے قبل ہی ای وی ایم کے حوالے سے خدشات کو دور اور مسائل کو حل کیا جا سکے اور آئندہ انتخابی نتائج کو تمام سیاسی جماعتوں کے لیے قابل قبول بنایا جا سکے۔