لاہور (رانا محمد عظیم ) شہباز شریف کی وفادار بیوروکریسی نے کام دکھانا شروع کر دیا، آ شیانہ کیس میں تین اہم ترین گواہوں میں سے ایک کو نوکری سے برطرف کردیا گیا ، دوسرا دباؤ کی وجہ سے استعفیٰ دے گیا جبکہ تیسرے کی دو ماہ سے تنخواہ بند ہے ۔آ شیانہ کیس میں بطور گواہ سامنے آ نے والے تینوں سرکاری ملازمین پر واقعی الزامات ہیں یا پھر شہباز شریف کے قریبی بیوروکریٹس نے گواہی سے روکنے اور دباؤ ڈالنے کیلئے یہ سب کچھ کیا، اس حوالے سے اہم ادارے نے انوسٹی گیشن شروع کر دی۔با وثوق ذرائع کا کہنا ہے آ شیانہ سکینڈل کیس میں پی ایل ڈی سی کے تین ملازمین پراجیکٹ ڈائر یکٹر رانا امیر حمزہ، سی ایف او شفیق اعجاز اور مینیجراسٹیٹ مینجمنٹ جنید زیدی نے شہباز شریف اور دیگر ملزمان کے خلاف بطور گواہ نیب میں بیانات ریکارڈ کرائے تھے اور اہم ترین ریکارڈ بھی دیا تھا، ٹرائل ہونے پرتینوں گواہوں کے بیانات عدالتی ریکارڈ کا حصہ بننا تھے ۔تین گواہوں میں سے سی ایف او شفیق اعجاز نے کچھ روز قبل عہدے سے استعفیٰ دے دیا ،دوسرے گواہ جنید زیدی کو نوکری سے برخاست کر دیا گیا،تیسرے گواہ پراجیکٹ ڈائریکٹر امیر حمزہ کی دو ماہ سے تنخواہ روک دی گئی ہے ۔ جنید زیدی نے 92سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہم تینوں کیلئے اس وقت مشکل ترین حالات پیدا ہونا شروع ہوئے جب شہباز شریف کے قریب ترین بیورو کریٹ نسیم صادق کو سیکرٹری ہاؤسنگ لگایا گیا،اس نے آتے ہی ہم تینوں گواہوں پر زندگی تنگ کر دی اور ہمیں مختلف طریقوں سے پیغام دیا گیاکہ آ پ نے گواہی دی تھی، اس کا نتیجہ بھگتیں گے ،ہمیں اس قدر تنگ کیا گیا شفیق اعجاز سی ایف او نے استعفیٰ دے دیا ،پھر مجھے غیر قانونی طریقہ سے نوکری سے برخاست کر دیا گیا ، تیسرے گواہ پراجیکٹ ڈائریکٹر امیر حمزہ کی دو ماہ سے تنخواہ روک دی گئی ہے ۔ہم نے ایس ای سی پی اور دیگر اداروں کو لیٹر لکھے کہ ہمیں شہباز شریف کے خلاف گواہ بننے کی سزا دی جا رہی ہے ،ایسا ماحول بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ شہبا زشریف کو اس کیس میں ریلیف مل جائے ،ہم نے وزیرا علیٰ ہاؤس بات کی تو جواب ملا ہم بیوروکریسی کے خلاف کچھ نہیں کر سکتے ۔مصدقہ ذرائع کا کہنا ہے تیسرے گواہ کو بھی نوکری سے یا تو فارغ کر دیا جائے گا یا پھر وہ خود نوکری چھوڑ جائے گا۔