اسلام آباد(خبر نگار، مانیٹرنگ ڈیسک) سپریم کورٹ نے اصغرخان عملدرآمد کیس بند کرنے کی ایف آئی اے کی سفارش مسترد کر کے کیس بند نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل دو رکنی بنچ نے اصغر خان فیملی کے قانونی ورثا کی طرف سے دائر درخواست پر ایف آئی اے سے جواب طلب کر لیا جبکہ سیکرٹری دفاع کو بھی نوٹس جاری کردیا ۔دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے اگر ایف آئی اے کے پاس اختیارات نہیں تو دوسرے ادارے سے تحقیقات کرالیتے ہیں، ہم ایف آئی اے کی طرف سے اخذ کیے گئے نتائج اور وجوہات سے مطمئن نہیں۔ عدالت نے اصغر خان کے اہل خانہ کے وکیل سلمان اکرم راجہ کو عدالت کی معاونت کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا اصغرخان کی زندگی کا بڑا حصہ اس کیس میں گزرا،اصغر خان کی کوشش رائیگاں نہیں جانے دی جائیگی،اصل تحقیقات کا وقت آیا تو رکاوٹیں کھڑی کر دیں، کیس کی تحقیقات ہر صورت ہونی ہیں۔چیف جسٹس نے کہا عدالت کا مقصد صرف 2 افسران کیخلاف تحقیقات نہیں، عدالت اصغر خان کے اہلخانہ کے ساتھ کھڑی ہے ۔ سیکرٹری دفاع آکر بتائیں تحقیقات میں کیا پیشرفت ہوئی، ہر ادارہ سپریم کورٹ کو جوابدہ ہے ۔ عدالت نے سماعت 25جنوری تک ملتوی کردی۔ علاوہ ازیں سپریم کورٹ نے نئی گج ڈیم کی تعمیر میں تاخیر سے متعلق مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے وزیر خزانہ اسد عمر ،وزیر توانائی عمر ایوب اور سیکرٹری کابینہ کو طلب کرلیا ہے ۔ چیف جسٹس نے ریما رکس دیے خواہش تھی کہ میرے ہوتے ہوئے معاملہ حل ہو جا ئے مگر بعض خواہشیں خواہشیں ہی رہ جاتی ہیں۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل ساجد الیاس نے عدالت کو بتایا کہ سی ڈی ڈبلیو پی کے اجلاس میں نئی گج ڈیم تعمیر کرنے کی سفارش ایکنک کو کردی گئی ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا اس طرح تو یہ معاملہ ایکنک میں جاکر پھنس جائے گا ۔عدالت نے پیر تک سی ڈی ڈبلیو پی کے اجلاس کے منٹس عدالت میں پیش کرنے کا حکم کرتے ہوئے سماعت منگل تک ملتوی کردی۔ دریں اثنا سپریم کورٹ نے انڈسٹری کی جانب سے زیر زمین پانی کے استعمال سے متعلق فیصلہ جاری کردیا۔ عدالت نے زیر زمین پانی کے استعمال پر ایک روپیہ فی لیٹر ٹیکس عائد کردیا ۔ ٹیکس سے حاصل ہو نے والی رقم کو دیا میر بھاشا اور مہند ڈیم کی تعمیر کے لیے استعمال کیا جائیگا اورعدالت کا تین رکنی بنچ سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدآمد کرائے گا۔ عدالت نے حکم دیا ہے کہ پانی کی قیمت کا بوجھ صارفین پر منتقل نہیں کیا جائے گا۔ عدالتی حکم کے مطابق ٹیکسٹائل،گارمنٹس،شوگر ملز ،پٹرولیم ریفائرنیز اور دیگر انڈسٹریز سے بھی زیر زمین پانی کی قیمت وصول کی جائے گی ۔فیصلے میں کہا گیا ہے حکومتیں، ایف بی آر اور متعلقہ ادارے عدالتی فیصلہ کی من و عن تعمیل یقینی بنائے ۔ مزید برآں سپریم کورٹ نے اسلام آباد کے ایگرو فارمز میں غیر قانونی تعمیرات سے متعلق کیس نمٹاتے ہوئے برآمدے کے علاوہ عمارت کو جرمانہ عائد کرکے ریگولرائز کرنے کی ہدایت کی ہے ۔ دو رکنی بنچ نے سی ڈی اے کو پچاس لاکھ سے زائد مالیت والے مکانات کے مالکان سے قسطوں میں وصولیاں کرنے جبکہ مالکان کو ڈیڑھ سال کے اندر قسطیں ادا کرنے کی ہدایت کی۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے عدالت نے فارمزہائوسز کے اندر عمارت تعمیر کرنے کی حد 12500 فٹ رکھی تھی،زائد عمارت گرائی جائے اور 12500 فٹ سے کم عمارت کو جرمانہ ادا کرکے ریگولرائز کیا جائے ۔ دوسری طرف پاکپتن دربار اراضی کیس میں جے آئی ٹی کے سربراہ حسین اصغر نے تحقیقات کے ٹی او آر ز سپریم کورٹ میں جمع کر ادیئے ۔مشترکہ تحقیقاتی ٹیم ٹی او آرز کی روشنی میں نواز شریف سے بطور وزیر اعلی پنجاب اوقاف کی زمین الاٹ کرنے کے معاملہ کی تحقیقات کرے گی۔ عدالت نے چترال کی ضلعی انتظامیہ کی ٹنل کھو لنے سے متعلق یقین دہانی پر لواری ٹنل کی بندش سے متعلق ازخو د نو ٹس کیس نمٹا دیا ۔ چیف جسٹس نے کہا ہم نے لوگوں کی مشکلات پر ازخود نوٹس لیا تھا لیکن اگر معا ملہ حل ہو گیا ہے تو اسے مز ید چلا نے کی ضرورت نہیں ۔ سپریم کورٹ میں سانحہ اے پی ایس کیس کی سماعت پیر کو کی جائیگی۔