افغانستان کے دارالحکومت کابل کے زچہ بچہ ہسپتال اور ننگر ہار میں پولیس کمانڈر کے جنازے پر خودکش حملے کے نتیجے میں 38 افراد ہلاک اور 85 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔ عالمی طاقتوں نے گزشتہ چار دہائیوں سے اپنی سازشوں اور پراکسیز کیلئے افغانستان کو تختہ مشق بنا رکھا ہے۔ افغان قوم کی باہمی مخاصمت افغانستان میں عدم استحکام کی وجہ بن رہی ہے ۔پاکستان کا روز اول سے یہی اصولی موقف رہا ہے کہ پاکستان کی ترقی و خوشحالی افغانستان میں امن و استحکام سے مشروط ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان افغانستان میں تمام سٹیک ہولڈر کی شراکت کے بعد وسیع البنیاد حکومت کے قیام کا حامی رہا ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان افغان حکومت کو دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی کے تحت جنگ لڑنے کی پیش کش بھی کر چکا ہے مگر بدقسمتی سے افغان حکومت بھارتی خفیہ ایجنسیوں کے زیر اثر ہمیشہ پاکستان کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑنے گریزاں رہی ہے۔ بھارتی خفیہ ادارے افغان عوام اور پاکستان کے درمیان بداعتمادی پیدا کرنے کیلئے نہ صرف پاکستان بلکہ افغانستان میں بھی دہشت گردی کی کارروائیاں کرواتے رہے ہیں۔ شبہ ہے کہ یہ مشکوک تنظیم داعش کی کارروائی ہے لیکن گزشتہ روز کی بہیمانہ کارروائی میں بھارت کے ملوث ہونے کے خدشہ کو یکسر نظرانداز کرنا اسلئے بھی ممکن نہیں کیونکہ تاحال افغانستان کے کسی بھی گروپ نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ بہتر ہو گا افغان حکومت خطہ میںپائیدار امن کیلئے پاکستان سے مل کر دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی بنائے تاکہ افغانستان میں پائیدار امن کی راہ ہموار ہو سکے۔