اسلام آباد(سپیشل رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ افغان سفیر کی بیٹی سلسلہ علی خیل کے اغوا کی تفتیش افغانستان اور پوری دنیا کے سامنے رکھیں گے اور مجرموں کو بے نقاب کریں گے ، دستیاب شواہد کی بنا پر افغان سفیر کی بیٹی کو اغوا کیے جانے کا تاثر غلط ہے ۔۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے مشیر قومی سلامتی معید یوسف اور آئی جی اسلام آباد قاضی جمیل الرحمن کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں افسوس ناک واقعہ رونما ہوا، جس سے ہم سب کو تکلیف تھی ، میں نے افغان وزیر خارجہ سے رابطہ کرکے حقائق سے مطلع کرنے کا فیصلہ کیا اور آج صبح ان کو صورت حال سے آگاہ کیا۔ان کا کہنا تھا کہ ہم نے جو اقدامات کیے ہیں، ان سے شیئر کیا اور تسلی دی کہ حکومت پاکستان مکمل تعاون کرنے کا ارادہ رکھتی ہے ، جو تفتیش اس وقت جاری ہے ، اس کے جو بھی نتائج ہوں گے وہ ہم میڈیا کو جاری کرنا چاہیں گے ، کیونکہ کچھ بھی پوشیدہ رکھنا ہمارا ارادہ نہیں ۔افغان وزیر خارجہ سے ہونے والی گفتگو پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں ان کو بتایا وزیراعظم پاکستان نے ذاتی طور پر اس کا نوٹس بھی لیا ہے اور پوری تفتیش کو وہ دیکھ رہے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ معاملہ کس نوعیت کا ہے اور کتنا حساس ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ میں نے انہیں اپنے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔انہوں نے کہا کہ ہماری یہ خواہش ہے جو مجرم ہیں ان کو بے نقاب کریں اور جو ذمہ داران ہیں، انہیں قرار واقعی سزا ملے ، ہمیں افغان سائیڈ سے کچھ تفصیلات درکار ہوں گی۔شاہ محمود قریشی نے کہا ہم نے نہ صرف سفارت خانے بلکہ قونصل خانے چاہے کراچی، پشاور یا کوئٹہ میں سکیورٹی بڑھا دی ہے ۔وزیرخارجہ نے کہا آداب میں رہ کر آگے بڑھیں گے ، ہمیں ان کا تعاون درکار ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ آج افغان وزیر خارجہ حنیف آتمر نے بھی کہا کہ انہوں نے ہمارانوٹ دیکھ لیا ہے اور میں نے ان سے گزارش کی کہ سفیر اور سینئر سفارت کاروں کو واپس بلانے کے فیصلے پر نظر ثانی کریں جو ہم دونوں کے مفاد میں ہے ۔انہوں نے کہا ہم افغانستان کے ساتھ ہم تعلقات کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں،حنیف آتمر نے مجھے یقین دلایا کہ وہ اس تفتیش کو آگے بڑھانے کے لیے مکمل تعاون کا ارادہ رکھتے ہیں۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ افغان وزیر خارجہ نے کہا ہم اپنا ایک وفد بھی اسلام آباد بھیجنا چاہتے ہیں تو میں نے کہا شوق سے آپ تشریف لائیں اور وہ ٹیم آئے ،ہم چاہتے ہیں اس کیس پر ہمیں مشترکہ طور پر آگے بڑھنا چاہیے اور اس پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے ۔آئی جی اسلام آباد نے کسی کی تفتیش کے حوالے سے آگاہ کیا اور کہا اس طرح کا واقعہ رپورٹ ہونا ہمارے لیے چیلنج تھا، یہ کیس اندھا تھا، رپورٹ کے بعد کوئی ثبوت اور دیگر چیزیں ہمارے پاس نہیں تھی۔ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد پولیس نے تمام وسائل بروئے کار لائے اور 5 ٹیمیں تشکیل دیں، گزشتہ کم و بیش 3 دنوں کے عمل کے دوران ہم نے 300 سے زیادہ کیمروں کا تجزیہ کیا، 7 گھنٹوں سے زائد کی ریکارڈنگ دیکھی، اب تک 220 سے زائد افراد کا انٹرویو کیا، ایک گاڑی کے 5 مالکان نکل آئے ، بالآخر ڈرائیور تک پہنچ گئے ۔ ہم نے پورا روٹ واضح کر لیا ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ تصدیق کرلی ہے کہ شکایت کنندہ گھر سے نکلتی ہیں تو پھر کہاں جاتی ہیں، پھر کہاں جاتی ہیں اور پھر گھر کیسے پہنچتی ہیں۔آئی جی نے کہا کہ یہ گھر سے پیدل نکلتی ہیں، پھر گالا مارکیٹ سے ٹیکسی لے کر کھڈا مارکیٹ جاتی ہیں اور تحائف لیتی ہیں، اس حوالے سے ڈرائیور کا کھوج لگا کر اس سے پوچھا گیا تو اس نے کہا کہ میں نے ان کو یہاں اٹھایا تھا، پھر دوسری ٹیکسی میں کھڈا مارکیٹ سے راولپنڈی جاتی ہیں، تیسراڈرائیور مل جاتا ہے اور وہ تصدیق کرتا ہے کہ میں نے ان کو کھڈا مارکیٹ سے اٹھایا اور راولپنڈی صدر لے کر گیا جبکہ کھڈا مارکیٹ سے نکل کر ایکسپریس وے ، فیض آباد اور صدر کی ساری سی سی ٹی وی فوٹیج ملی۔ان کا کہنا تھا کہ جہاں پر ان کو ڈراپ کیا گیا تھا وہاں کی سی سی ٹی وی فوٹیج ہمیں نہیں ملی، پنڈی سے دامن کوہ کے لیے ایک اور ٹیکسی لی اور اسلام آباد ڈراپ کیا۔ پھر چوتھی ٹیکسی بھی شامل ہے دامن کوہ سے ان کو اٹھاتا ہے اور ایف نائن پارک ڈراپ کرتا ہے لیکن اسے پہلے ایف 6 جاتی ہیں اور فون نہیں ملنے پر ایف نائن پارک جاتی ہیں،، ایف نائن پارک میں کسی سے موبائل لے کر وہ سفارت خانے فون کرتی ہیں اور وہاں سے سفارت خانے کا عملہ آکر ان کو گھر لے جاتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہماری تفتیش تقریباً پوری ہوگئی ہے ،جو تاثر اس واقعے کا دیا جارہا تھا ، ویسا نہیں ہے ۔اور ہم نے وزارت خارجہ سے درخواست کی کہ ہمیں مزید تعاون کی ضرورت ہے تو انہوں نے نوٹ بنا کر بھیج دیا۔اس موقع پر مشیر قومی سلامتی معید یوسف نے کہا کہ ہم بارہا بحیثیت ریاست اور حکومت یہ بات کرتے رہے ہیں کہ پاکستان ہائبرڈ وار فیئر کا نشانہ بنا ہوا ہے اور انفارمیشن وار فیئر کا ایک پورا جال ہے جس کو جب موقع ملتا ہے یا موقع بنا کر پاکستان کے خلاف استعمال ہوتا ہے ،ای یو ڈس انفو لیب یورپی یونین نے یہ سارا جال بے نقاب کیا تھا، جس میں بھارت کا ذکر تھا جہاں کس طرح سیکڑوں ویب سائٹس اور جعلی نیوز ادارے چل رہے تھے ۔ یہ سب روبوٹ سے ایک بیانیہ بنا کر پوری دنیا میں پھیلاتے جاتے ہیں کہ پاکستان میں سیکیورٹی خراب ہے اور افغانستان میں کچھ کر رہا ہے ۔ ایک دلچسپ بات ہے وہی اکاؤنٹ جو بلوچستان یا کشمیر کے بارے میں جعلی پراپیگنڈا آگے بڑھاتے ہیں وہی اکاؤنٹس اس واقعے پر بھی پراپیگنڈا کر رہے ہیں جو محض اتفاق نہیں ہو سکتا ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ وہ اکاؤنٹس چند پاکستان کے اندر، چند افغانستان سے ، چند بھارت سے اور چند وسطی دنیا سے نظر آتے ہیں، یہ بالکل واضح ہے ، اس میں کوئی شک نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ جب ہم ٓگے بڑھتے ہیں اور افغانستان کے ساتھ معاملات ٹھیک ہوتے ہیں تو یہ چیزیں شروع ہوجاتی ہیں، جو اس میں ملوث ہیں۔مشیر قومی سلامتی نے کہا کہ افغانستان میں کسی اور کی ناکامی ہمارے اوپر ڈالنا ہمیں قبول نہیں ہوگا۔