آخر کارحکومت نے ڈالر کی بڑھتی قیمت کی وجوہات کا خاتمہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پہلے مرحلے میں ڈالر کا لین دین کرنے والی پانچ بڑی کمپنیوں کے آڈٹ کا حکم دیا گیا ہے۔ وزیر داخلہ شیخ رشید کا کہنا ہے کہ ڈالر کی غیرقانونی خریدوفروخت میں ملوث 47 افراد کے خلاف مقدمات درج ہو چکے ہیں جبکہ مجموعی طور پر 88 افراد گرفتار ہوئے ہیں۔ پاکستان کے معروضی حقائق کو پیش نظر رکھیں تو ڈالر کی طلب میں اضافہ کی بڑی وجہ آئی ایم ایف کے ساتھ قرض کی نئی قسط کے لیے مذاکرات سے قبل مالیاتی شرائط پوری کرنا‘ عالمی منڈی میں پٹرولیم و گیس کے نرخوں میں اضافے کی وجہ سے ایندھن کے درآمدی بل کے لیے زیادہ ڈالروں کی ضرورت اور افغانستان کی مالیاتی ضروریات کے لیے درکار ڈالروں کی کھلی مارکیٹ سے خرید پاکستان میں ڈالر کی قدر زیادہ اور روپے کی قدر میں کمی کا باعث بنی ہے۔ ڈالر کی طلب بڑھنے کا ایک سبب درآمدات پر انحصار کرنے والے کاروبار میں تیزی ہے۔ نجی شعبہ خام مال کے لیے جب بڑی مقدار میں ڈالر خرچ کرتا ہے تو دوسری طرف اس مال سے تیار کی گئی مصنوعات اندرون و بیرون ملک کی منڈیوں میں جاتی ہیں اس سے ڈالر آتے ہیں جو خام مال پر اٹھنے والے ڈالر برآمدات کے ذریعے منافع سمیت واپس آ جاتے ہیں۔ پاکستان میں اس عمل کو سمجھنے والے افراد کی کمی نہیں لیکن حکومت اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود برآمدات میں اضافہ نہیں کر پاتی۔ حالیہ دنوں ملک میں ڈالر کی طلب میں پراسرار طور پر اضافہ ہونے لگا۔ جولائی‘ اگست 2021ء سے یہ عمل شروع ہوا۔ مالیاتی معاملات سے آگاہ حلقے اسی وقت سے حکومت کی توجہ اس جانب دلا رہے تھے لیکن باقی اہم معاملات کی طرح حکومت نے اس معاملے پر بھی بروقت توجہ نہ دی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ روپے کے مقابل ڈالر کی قدر بڑھتیگئی۔ پاکستان میں ڈالر تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے۔ اس کا بیٹھے بٹھائے ایک نقصان یہ ہوا کہ ملک پر واجب بیرونی قرضوں کے حجم میں کئی سو ارب روپے کا اضافہ ہوگیا۔ جو لوگ کاروبار کر رہے ہیں اور بیرونی دنیا سے مال خریدتے ہیں ان کے لیے یہ صورت حال تشویش کا باعث بن رہی ہے۔ اشیاء کے نرخ ایک دن میں کچھ ہوتے ہیں اگلے دن اور ہو جاتے ہیں۔ حکومت کے لیے ڈالر کے نرخوں کا مسئلہ اس لیے سنگین نہیں ہوا کہ اس سے کاروباری طبقہ پریشان ہوا۔ اس پریشانی کی وجہ مہنگائی ہے۔ حالیہ کشمیر انتخابات میں تحریک انصاف موجودہ نشستوں سے کہیں زیادہ پر کامیاب ہو سکتی تھی لیکن مہنگائی پر قابو پانے میں ناکامی نے اس کی کارکردگی کو دھندلا دیا۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ہفتہ وار بڑھائی جانے لگیں۔ گیس اور بجلی کے نرخوں کا معاملہ بھی ایسا ہی دکھائی دیا۔ عام سمجھ بوجھ کا حامل شخص جانتا ہے کہ ملک کا بجٹ قیمتوں میں استحکام کو پیش نظر رکھ کر تیار کیا جاتا ہے۔ آمدن و اخراجات کا میزانیہ اس وقت تباہ ہو جاتا ہے جب ہر ہفتے قیمتیں بڑھا دی جائیں۔ عوام نے ردعمل دیا تو وزرائے کرام نے عجیب منطق پیش کردی کہ پاکستان میں اب بھی خطے کے باقی ممالک کی نسبت پٹرول اور اشیائے ضروریہ کے نرخ سب سے کم ہیں۔ ایسی دلیل پیش کرتے ہوئے دوسرے ممالک کی معیشت کے مجموعی حجم‘ وہاں کے لوگوں کی قوت خرید اور ڈالر کے مقابلے میں کرنسی کی شرح تبادلہ کا حساب نہ رکھا گیا۔ اس طرح کے بیانات نے تاثر دیا کہ حکومت کے پاس مالیاتی مسائل کا ٹھوس حل موجود نہیں۔حکومت نے ڈالر بحران کی تحقیقات کے دوران افغانستان کو ڈالر سمگلنگ پر توجہ دی ہے ۔ پاکستان سے افغانستان ڈالر دو رستوں سے جاتا ہے۔چمن کے ذریعے افغانستان جانے والے ڈالر کی خریداری کراچی کی مارکیٹ سے کی جاتی ہے اور یہ خریداری کراچی کی قانونی مارکیٹ سے نہیں بلکہ گرے مارکیٹ سے کی جاتی ہے۔کوئٹہ میں صرف حج اور عمرے کے لیے غیر ملکی کرنسی کی ضرورت پڑتی ہے۔رپورٹس کے مطابق کراچی سے کوئٹہ کا پورا روٹ ایک گروپ کے پاس ہے اور کوئٹہ سے چمن اور پھر افغانستان کو سمگل ہونے والے ڈالروں کا انتظام ایک اور گروپ نے سنبھال رکھا ہے۔تاہم کوئٹہ اور چمن سے افغانستان جانے والے ڈالروں کی تعداد پشاور سے افغانستان جانے والے ڈالروں میں مقابلے میں بہت کم ہے۔پشاور سے افغانستان جانے والے ڈالروں کی خریداری کا مرکز راولپنڈی ہے ۔بتایا جاتا ہے کہ افغانستان کی حدود کے اندر پاکستان کی سرحد سے ایک کلومیٹر کی مسافت پر موجود ویش منڈی میں ہزاروں لوگ روزانہ آ جا رہے ہوتے ہیں۔ جو لوگ ڈالر سمگل کر رہے ہیں وہ کوئٹہ اور قندھار میں ایک دوسرے سے رابطے میں ہوتے ہیں۔دوسری جانب پشاور میں کارخانو بازار اور چوک یادگار میں یہ کام ہو رہا ہے کہ جہاں سے ڈالر کی سمگلنگ ہوتی ہے۔ یہ سمگلنگ ٹرکوں کے خفیہ خانوں کے ذریعے بھی کی جاتی ہے اور تھوڑی تعداد میں ڈالروں کی منتقلی کی صورت میں بھی ہوتی ہے جیساکہ 10 ہزار، 20 ہزار یا 30 ہزار ڈالر مختلف افراد کے ذریعے پاکستان سے افغانستان منتقل کیے جا سکتے ہیں۔واقف حال حلقوں کے مطابق یہ کام زیادہ تر کوئٹہ اور قندھار کے لوگ کر رہے ہیں۔ ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کا کہنا ہے کہ پشاور سے افغانستان ڈالروں کی سمگلنگ ہوتی ہے اور یہ زیادہ تر بذریعہ سڑک ہی ہوتی ہے۔یقینی طور پر حکومت کے پاس زیادہ تفصیلات ہوں گی،ملکی مشکلات، مہنگائی میں ہوشربا اضافہ اور کاروباری طبقات کے مسائل دیکھتے ہوئے لازم ہے کہ اس معاملے میں ملوث افراد کو قانون کی گرفت میں لایا جائے۔