واشنگٹن (ندیم منظور سلہری)امریکہ کے وسط مدتی انتخابات میں صدر ٹرمپ کی رپبلکن پارٹی سینٹ میں اکثریت برقرار رکھنے میں کامیاب ہوگئی، تاہم ان کی حریف ڈیموکریٹک پارٹی ایوان نمائندگان میں 8 سال بعد اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی۔آٹھ سال بعد ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹ پارٹی کی اکثریت کا مطلب ہے کہ صدر ٹرمپ کو اپنے ایجنڈے پر عمل درآمد کرنے میں رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ڈیموکریٹک پارٹی نے ایوان نمائندگان میں221، ری پبلکن نے 196 نشستیں حاصل کیں جبکہ سینٹ میں ری پبلکن نے 51، ڈیموکریٹ پارٹی نے 46 نشستیں حاصل کی ہیں۔گورنر کا بھی انتخاب ہوا ہے جس میں ری پبلکن کے 25، ڈیموکریٹس کے 23گورنر منتخب ہوئے ہیں۔الیکشن میں دو مسلمان خواتین الہان عمر اور راشدہ طالب بھی ایوان نمائندگان کی رکن بنی ہیں۔الہان صومالیہ نژاد،راشدہ طلیب فلسطینی نژاد ہیں، دونوں کا تعلق ڈیموکریٹ پارٹی سے ہے ۔انتخابات میں مجموعی طور پر 117 خواتین منتخب ہوئی ہیں۔ ڈیموکریٹس نے ورجینیا اور فلوریڈا سے ری پبلکنز کی 2 نشستیں چھین لیں۔ورجینیا سے ڈیموکریٹ امیدوار جینیفر ویکسٹن نے ری پبلکن باربرا کامسٹوک کوشکست دے کر سینٹ کی نشست پر کامیابی حاصل کرلی۔ فلوریڈا سے ڈونا شلالا نے ایوان نمائندگی کی نشست پر ری پبلکن کی ماریا الویرا کو شکست دے دی۔سکینڈل میں ملوث ڈیموکریٹ امیدوار میننڈیز دوبارہ نیو جرسی سے سینٹ کے رکن منتخب ہوگئے جبکہ انڈیانا میں ڈنلی کو شکست ہوگئی۔امریکی نائب صدر مائیک پینس کے بھائی گریگ پینس بھی ایوان نمائندگان کے رکن منتخب ہوگئے ہیں۔ کامیاب ہونے والے ڈیموکریٹس ایلٹ اینگل، ٹم کین، الہان عمر نے کہا ہے کہ ٹرمپ کی جانب سے ماضی میں کئے گئے فیصلوں کا ازسر نو جائزہ لیا جائیگا، اب ’’ ٹرمپ کی میں نہ مانوں پالیسی‘‘ نہیں چلے گی۔راشدہ طلیب نے کہا ہے کہ وہ فلسطینی لباس پہن کر کانگریس کے ایوان میں داخل ہونگی، یہ لباس انکی والدہ نے خود تیار کیا ہے اور وہ قرآن پر ہاتھ رکھ کر حلف اٹھائینگی۔امریکی صدرڈونلڈٹرمپ نے انتخابی نتائج پرتبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ105سال میں وسط مدتی انتخابات میں صرف5امریکی صدورنے کامیابی حاصل کی۔ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر پیغام میں کہا ری پبلکن کو آج بڑی کامیابی ملی۔ اپنی تعریف کرتے ہوئے انہوں نے کہا ٹرمپ میجک مین ہیں، ریپبلکن کی کامیابی ٹرمپ کا میجک ہے ۔ مڈٹرم الیکشن میں ریپبلکن امیدواروں کی کامیابی پر انہوں نے عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر حیران کن ووٹ حاصل کرنے والے مہم جو ہیں، ریپبلکن خوش قسمت ہیں کہ انہیں ٹرمپ جیسا لیڈر ملا ،ٹرمپ وہ ہے جسکے خلاف پورا میڈیا ہے ، اسکے باوجود کامیاب ہوئے ۔ ماہرین کے مطابق امریکی ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے نینسی پلوسی سپیکر بنیں گی، وہ 2007ء سے 2011ء تک اس عہدے پر فائز رہ چکی ہیں۔الیکشن نتائج مکمل ہونے کے بعد معروف سکالر اجے کمار شرما نے کہا ہے کہ کانگریس میں ڈیموکریٹس کی جیت صدر ٹرمپ کے لئے وبال جان ثابت ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ ہسپانوی ووٹروں نے زیادہ اپنا حق رائے دہی استعمال نہیں کیا ،اگر وہ باہر نکلتے تو سینٹ میں بھی ریپبلکنز کو شکست ہوتی۔ 92 نیوز کے 39 پولنگ سٹیشنوں کے ایک سروے کے مطابق عوام نے مختلف سوالات کے جوابات دیتے ہوئے بتایا کہ 2020ء میں صدارتی الیکشن میں صدر ٹرمپ کو عبرتناک شکست سے دوچار ہونا پڑیگا، ٹرمپ نے جسطرح امیگریشن معاملات کو اپنی ذاتی انا کا مسئلہ بنا لیا، عوام کبھی انکے ذاتی ایجنڈے کو پورا نہیں ہونے دینگے ۔امریکی میڈیا کے مطابق مڈٹرم الیکشن میں ووٹ کے حق سے متعلق تنظیموں کو 10 ہزار شکایات موصول ہوئی ہیں جبکہ کسی بھی مڈٹرم الیکشن میں شکایات کی سب سے بڑی شرح ہے ۔