پاکستان نے امریکی کانگریس کے نام لینٹس ہیومن رائٹس کمیشن کی مقبوضہ کشمیر پر حمایت کا خیر مقدم کیا ہے۔کمیشن نے دیانتداری سے بھارتی حکومت کی جابرانہ پالیسیوں کے پس منظرمیں موجود آمرانہ اور فوجی انتہاپسندانہ نظریات و خواہشات کو بے نقاب کیا ہے۔ مودی سرکار نے 105 روز سے کشمیریوں کے نان نفقہ اور نقل و حرکت پر پابندی عائد کر رکھی ہے جس سے مقبوضہ وادی ایک جیل کا منظر پیش کرتی نظر آتی ہے۔ عالمی براوری انسانی حقوق کی تنظیمیں اور اقوام متحدہ نے مودی سرکار کے ایسے متنازعہ فیصلوںپر خاموشی اختیار کر رکھی ہے جو 80 لاکھ افراد کو دیوار کے ساتھ لگا کر اسے پُرتشدد راستے کا انتخاب کرنے پرمجبور کر رہی ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے کئی بار مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کی ہے لیکن مودی سرکار ہر بار راہ فرار اختیار کر جاتی ہے لیکن ٹرمپ انتظامیہ اس پر لب کشائی نہیں کرتی۔ اب امریکی ایوان نمائندگان کی ایشیا پر ذیلی کمیٹی کے اجلاس کے بعد امریکی کانگریس کے نام لینٹس کمیشن نے بھی وادی میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر کھلے الفاظ میں اس کی مذمت کی ہے۔ کمیشن نے کشمیری عوام کی مشکلات، طلبہ، تاجروں اور صحافیوں کو بھی درپیش مسائل سے دنیا کو آگاہ کرکے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے دعویدار بھارت کا پول کھول دیا ہے جو دنیا کو کشمیر کی صورتحال سے آگاہ کرنے کی پاکستان کی کوششوں کا بھی اعتراف ہے۔ امریکی ایوان نمائندگان بھی ٹرمپ کی طرح رسمی پیشکشوں کی بجائے اخلاص نیت اور صدق دل سے کشمیریوں کی حمایت کرے تاکہ کشمیری عوام ایک طویل کرفیو سے چھٹکارا پا کر سکھ اور چین کی زندگی بسر کر سکیں۔