اسلام آباد(وقائع نگار خصوصی،مانیٹرنگ ڈیسک، این این آئی) پاکستان نے امریکہ کی جانب سے بھارت کو جدید فضائی دفاعی نظام کی فروخت پر تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہا کہ امریکی فیصلے سے خطے کے استحکام پر سنجیدہ اثرات مرتب ہونگے ۔انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا ہتھیاروں کی دوڑ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ترجمان نے امریکا کی جانب سے بھارت کو جدید فضائی دفاعی نظام (ایڈوانسڈ انٹرڈکشن ویپن سسٹم اے آئی ڈبلیو ایس) کی فروخت پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اور بھارت کے درمیان دفاعی تعلقات جنوبی ایشیا میں عدم استحکام کا باعث بن رہے ہیں۔ عالمی برادری پاکستان کیخلاف بھارت کے جارحانہ عزائم اور بھارتی سیاسی و عسکری قیادت کے دھمکی آمیز بیانات سے بخوبی آگاہ ہے ۔ترجمان نے کہا کہ عالمی برادری کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ بھارت کو خطے میں عدم استحکام کی کوششوں سے روکے ۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نام نکلنے کے حوالے سے پرامید ہے اور عالمی برادری میں پاکستان کے پارٹنرز اس سلسلے میں مدد کے خواہاں ہیں۔ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی جانب سے پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کی کئی مرتبہ پیشکش کی گئی، اب اس پیشکش کو حقیقت کا روپ دیا جانا چاہیے ۔ان کا کہنا تھا کہ 'توقع ہے کہ اپنے دورہ ہندوستان میں امریکی صدر نریندر مودی سے اس مسئلے پر بات کر ینگے ۔ عائشہ فاروقی نے کہاکہ بھارت نے اس سال کے آغاز سے اب تک 272 مرتبہ جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا ارتکاب کیا ہے جن کے نتیجے میں 3شہری شہید اور 25شدید زخمی ہوئے ۔اس موقع پر انہوں نے بھارت کی جانب سے جعلی آپریشن کا خطرہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں ترک صدر رجب طیب اردوان اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے دورہ پاکستان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورہ بھارت کے موقع پر بھارت کی جانب سے توجہ ہٹانے کیلئے کسی قسم کی کارروائی کی جا سکتی ہے ۔ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کی ترکی میں مبینہ موجودگی کے حوالے سے سوال کے جواب میں عائشہ فاروقی کا کہنا تھا کہ وزارت داخلہ اس معاملے کو دیکھ رہی ہے کہ وہ کہاں ہیں۔ترک صدر رجب طیب اردوان کے پاکستان کے 2 روزہ دورے کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک میں نہ صرف قریبی و دوستانہ تعلقات ہیں بلکہ یہ تعلقات بھائی چارے پر مبنی ہیں۔