پاکستان کے ایک سابق سفارت کار اشرف جہانگیر قاضی نے حال ہی میں اپنے ایک مضمون میں پاکستان کو کشمیر کی صورت حال کے حوالے سے ایک متبادل راستہ اختیار کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کشمیریوں کو اپنے حال پر چھوڑ کر ، سفارتی محاذ پر کوششیں جاری رہنی چاہئے اور ساتھ ہی انہوں نے ان کاوشوں کو بے مصرف بھی قرار دیا۔ ان کادعویٰ ہے کہ پاکستان میں کئی حلقے اسی راستے کو اپنانے کی وکالت کرتے ہیں تاکہ ملک کو کسی امکانی بحران سے بچایا جا سکے۔ ان کے مطابق حکومت کے اندر بھی کئی مقتدر حلقے اس پالیسی کی تائید کرتے ہیں۔ اگر یہ محض کسی کالم نویس یا کسی تھنک ٹینک کے دانشور کی اختراع ہوتی تو اسکو صرف نظر کیا جاسکتا یا اسکو قلم کار کے ذاتی خیالات گردان کر نظر انداز کیا جا سکتا تھا۔ مگر ایک زیرک سفارت کار ، جو بھارت میں انتہائی مخدوش حالات میں پاکستان کی نمائندگی کر چکا ہو اور عالمی سفارت کاری میں بھی نام کما چکا ہو، کا اس طرح کے مشورہ دینے سے یہی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پس پردہ ضرور کوئی کھچڑی پک رہی ہے۔ جس کا رد عمل دیکھنے کیلئے قاضی صاحب کو میدان میں لایا گیا ہے۔ سفارت کاری یا حکومتی معاملات میں جب بھی کوئی ایسا غیر متوقع یا سخت فیصلہ لینا ہوتا ہے تو ذرائع کے حوالے سے یا کسی ایسے ہی سابق سفارت کار یا فوجی افسر کے ذریعے میڈیا میں اسکی تشہیر کی جاتی ہے۔ اگر رد عمل نا موافق ہوا، تو اسکو قلم کار کی ذاتی رائے بتا کر حکومتی افراد اپنا دامن چھڑا تے ہیں۔ دوسری صورت میں اسکو پالیسی کا جز بنایا جاتا ہے۔ ریاض محمد کھوکھر کی ایک جارحانہ اننگ کے بعد غالباً1997ء میں قاضی صاحب دہلی میں پاکستان کے بطور سفیر وارد ہوئے۔ ان کی آمدبالکل ایسی تھی کہ جیسے بیٹنگ لائن میں ظہیر عباس یا شاہد آفریدی کے بعد مدثر نذر یا مصباح الحق کی آمد ہو۔ پاکستانی سفارت کاری میں انکو مسودوں میں الفاظ کا تعین کرنے میں کمال حاصل ہے۔ ان کی دہلی آمد کے ایک سال بعد ہی اٹل بہاری واجپائی کی قیادت میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی پہلی حکومت معرض وجود میں آئی۔ جس وقت واجپائی کی پہلی حکومت 13ماہ بعد پارلیمنٹ میں ایک ووٹ سے شکست سے دوچار ہوئی، تو وہ اسوقت پارلیمنٹ میں سفارت کاروں کیلئے مخصوص گیلری میں موجود تھے۔ چونکہ سفارتی گیلری اور پریس گیلری متصل ہے، مجھے یاد ہے کہ وہ اس کے کنارے پر آکر صحافیوں سے پوچھ کر تصدیق کرنے کی کوشش کر رہے تھے کہ کیا واقعی واجپائی حکومت گر گئی ہے۔ ان کے دور میں واجپائی کا لاہور دورہ، کرگل جنگ اور پھر پاکستان میں نواز شریف کی معزولی و پرویز مشرف کی آمد، آگرہ مذاکرات اور بھارتی پارلیمنٹ پر دہشت گردانہ حملہ جیسے اہم واقعات وقوع پذیر ہوئے۔ بھارتی پارلیمان پر حملہ کے بعد ان کو بھارت چھوڑنے کا حکم دیا گیا۔ ان ہی کے دور میں حریت کانفرنس میں لیڈروں کے درمیان اختلافات شدید ہوگئے تھے، جو بعد میں اسکی تقسیم کا سبب بن گئے۔ مرحوم عبدالغنی لون ، اشرف جہانگیر قاضی کو بھی اس کی ایک وجہ مانتے تھے۔ کھوکھر کے برعکس سیاسی لیڈروں کے ساتھ ان کا برتائو ، روایتی افسرشاہی جیسا ہوتا تھا، جو کئی مواقع پر لیڈروں کو ناگوار گزرتا تھا۔ ان کے دور کا ایک کارنامہ یہ تھا کہ معروف صحافی کرن تھاپر کے ذریعے انہوںنے بی جے پی کے اسوقت کے مرد آہن اور نائب وزیر اعظم لال کشن ایڈوانی تک رسائی حاصل کی تھی اور کئی بار کرن تھاپر کی گاڑی میں ان کی رہائش گاہ پر خفیہ ملاقاتیںکی تھیں۔ وہ شاید ایڈوانی کے ذریعے ایک بیک چینل بنانے کی کوشش کر رہے تھے ، کہ پارلیمنٹ پر حملہ نے اسکو ناکام بنادیا۔ پھر یہ بیک چینل ان کے کسی کام نہیں آیا۔ سب سے پہلے ان کو ہی ملک چھوڑنے کا حکم دیا گیا۔ انہوں نے پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کو مشورہ دیا ہے کہ ان کی آئوٹ آف باکس تجویز پر عمل کرکے، جس طرح واجپائی نے لاہور آکر دنیا کو حیران و پریشان کردیا تھا، اسی طرح وہ بھی دہلی جاکر دنیا کو ششدر کردیں اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ ایک مشترکہ بیان جاری کریں، جس میں ماحولیات کو ناقابل تلافی نقصانات سے بچانے کی خاطر ایک مشترکہ لائحہ عمل کا تعین کرنا اور دہشت گردی کو ختم کرنے کے حوالے سے عہد و پیمان باندھنا ، کشمیر پر کسی حل پر بات چیت ، جو فریقین کو منظور ہو، میڈیا میں ایک دوسرے کے خلاف پراپیگنڈہ کم کرنا وغیرہ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ان کی تجاویز میں لائن آف کنٹرول پر اعتماد سازی کے اقدامات، تجارت کی بحالی ، سرمایہ کاری اور ایک دوسرے ملکوں میں کانفرنس وغیرہ کا احیاء کا بھی ذکر ہے۔ یہ معلوم نہیں کہ یہ تجاویز کسی ذریعے سے بھارت کو بھیجی گئی ہیں یا نہیں، مگر آثار و قرائن بتا رہے ہیں کہ پاکستان کا پورا زور مذاکرات کے سلسلہ کی بحالی پر لگا ہوا ہے۔