واشنگٹن (نیوزایجنسیاں ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورہ بھارت سے قبل امریکی سینٹ کے چار اہم ارکان نے مقبوضہ کشمیر میں انٹرنیٹ کی مسلسل معطلی اور سیاسی رہنمائوں کی نظربندی پر تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ سینیٹروں نے بھارتیہ جنتاپارٹی کی حکومت کی طرف سے پاس کیے جانے والے شہریت ترمیمی بل پر بھی تشویش ظاہر کی ہے جس کیخلاف بھارت بھر میں زبردست مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔کشمیر میڈیاسروس کے مطابق ڈیموکریٹک پارٹی اور ری پبلکن پارٹی کے چار سینیٹرز لنزے گراہم، کرس وان ہولن، ٹوڈ ینگ اور ڈک ڈربن نے امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیوکے نام خط میں لکھا کہ بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ چھ ماہ سے انٹرنیٹ کی سہولیات کو معطل کر رکھا ہے جس کی وجہ سے لاکھوں لوگوں خاص طور پر مریضوں، تاجروں اور طلبہ کو سخت مشکلات درپیش ہیں۔ اہم سیاسی رہنمائوں سمیت سینکڑوں کشمیری نظر بند ہیں ۔ بھارتی حکومت نے شہریت ترمیمی بل سمیت کچھ ایسے پریشان کن اقدامات بھی کیے ہیں جن کی وجہ سے بھارت کی سیکولر شاخت اور مذہبی اقلیتوں کے حقوق خطرے میں پڑ چکے ہیں۔ خط میں امریکی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ دفعہ 370 کی منسوخ کے بعد سے بھارتی حکومت کی طرف سے سیاسی بنیادوں پر زیرحراست کشمیریوں کی تعداد کا 30 روز کے اندر جائزہ لے ۔سینیٹرز نے کشمیر میں مواصلات پر پابندیوں، آزاد مبصرین ، سفارتکاروں اور غیر ملکی صحافیوں کو علاقے میں دی جانے والی رسائی کی حیثیت کا جائزہ لینے کا بھی مطالبہ کیا۔امریکی سینیٹرز نے شہریت ترمیمی بل کی وجہ سے بھارت سے بے دخل ہونے والوں کی متوقع تعداد کے بارے میں بھی معلومات مانگی ہیں۔