اسلام آباد(سہیل اقبال بھٹی)وفاقی حکومت نے ملکی گیس کی قلت کو بالائے طاق رکھتے ہوئے کوہاٹ میں اہم حکومتی شخصیت کے حلقہ اور گردو نواح کے علاقے میں گیس فراہمی کیلئے 5ماہ قبل منظور کی گئی شرائط اورضوابط تبدیل کردئیے ۔ گیس سکیم کا تخمینہ زائد ہونے کے باعث وفاقی کابینہ سے گیس سکیم پر رقم خرچ کرنے کی حد 5 کروڑ روپے سے بڑھا کر30کروڑ روپے منظور کرانے کا انکشاف ہوا ہے ۔ 92نیوز کوموصول سرکاری دستاویز کے مطابق وفاقی حکومت نے پائیدار ترقی پروگرام کے تحت اپنی ہی منظورشدہ شرائط وضوابط کو اچانک تبدیل کردیا۔ ایس اے پی کے تحت سوئی ناردرن اور سوئی سدرن کو گیس سکیم کی تعمیل کے قابل بنانے کیلئے گیس سکیم شروع کرنے کیلئے لاگت کی حد کو 20کروڑ روپے تک بڑھانے کی سفارش کی گئی تھی مگر وفاقی حکومت نے یہ حد 30کروڑ روپے تک منظورکرلی۔ایس اے پی کے تحت جاری شدہ فنڈز کیلئے گیس کمپنیوں کو پی سی ون کی تیاری سے مستثنیٰ قرار دیدیا گیا۔گیس کمپنیوں کی جانب سے مکمل کی جانے والی سکیم کی منظوری کیلئے سٹیئرنگ کمیٹی کو اختیار دیدیا گیا۔متعلقہ ڈی سی اورڈی سی او گیس سکیم کو کابینہ ڈویژن کو بھجواتے وقت تمام رسمی طریقہ کار کو پورا کریگا۔سٹیئرنگ کمیٹی کی جانب سے بچت فنڈزکے تحت پہلے سے منظور شدہ گیس سکیم کو گیس کمپنیز کی جانب سے مکمل کیا جائیگا۔ وفاقی کابینہ نے 21فروری2019ء کو ہونے والے اجلاس میں پائیدار ترقی کے اہداف حاصل کرنے کے پروگرام (ایس اے پی) کے حوالے سے سٹیئرنگ کمیٹی کے قیام کی منظوری دیتے ہوئے تعلیم،صحت،پینے کا صاف پانی،فارم سے مارکیٹ روڈ،گیس،بجلی، اور پائیدار ترقی کے اہداف حاصل کرنے کیلئے مداخلت کے شعبوں کی سکیم کیلئے شرائط و ضوابط اور ہدایات کی منظوری دی تھی۔ ہدایات کے پیرا 3میں ایس اے پی پر عملدر آمد کیلئے طریقہ کار کی وضاحت کی گئی جس میں 19مارچ2019ء کو کچھ ترامیم کیساتھ نوٹیفکیشن جاری کیا گیا کہ کم از کم علاقے کے 30رہائشی افراد سکیم کی نشاندہی کر ینگے اور5لاکھ سے 5کروڑ کی لاگت کی سکیم کو پروگرام میں شامل کیا جا ئیگا۔ متعلقہ ڈی سی، ڈی سی او کو سکیم کیلئے مالی معاونت کی درخوا ست کی جائیگی۔ڈی سی،ڈی سی او درخواست کو متعلقہ ایجنسی کو بھجوائیگا جو کہ سکیم کی متوقع قیمت اور امکانات کا جائزہ لے گی۔متعلقہ ایجنسی کی جانب سے سفارشات مجاز فورم کو پیش کی جا ئینگی جیسا کہ ڈی ڈی ڈبلیو پی،پی ایس ڈبلیو پی،سی ڈی ڈبلیو پی۔مجاز فورم کی جانب سے منظور شدہ سکیم کو سٹیئرنگ کمیٹی کے سامنے مالی معاونت اور منظوری کیلئے پیش کیا جائیگا۔کابینہ ڈویژن کو موصول ہونے والی سکیم کو مجاز فورم کی منظوری کیلئے بھجوایا جا ئیگا۔سکیم کو متعلقہ وزارت،ڈویژن کے سامنے پیش کیا جا ئیگاتاکہ انتظامی اجازت دی جائے اور کابینہ ڈویژن،پروگرام سیکرٹریٹ سے فنڈز جاری کرنے کی درخواست کی جا ئیگی۔انتظامی اجازت میں 5 نکات کومدنظر رکھا جائے گا۔پہلا نکتہ کہ سکیم کو مکمل کیا جا سکتا ہے ،دوسراسکیم عوامی مفاد میں ہے ،تیسراعلاقے میں کسی اور ایجنسی نے متعلقہ سکیم شروع نہیں کی، چوتھاآپریشن اور مینٹیننس کے اخراجات متعلقہ مقامی اور صوبائی حکومت برداشت کریگی اور پانچواں نکتہ کہ اگر انتظامی اجازت کے دو ماہ کے اندر سکیم پر کام شروع نہیں کیا جاتا تو جاری شدہ فنڈز وفاقی حکومت،کابینہ ڈویژن کو واپس کر دیے جائینگے ۔