الیکشن کمشن نے عام انتخابات کے پیش نظر ملک بھر کے بلدیاتی اداروں کے عہدیداروں کو 25جولائی تک معطل کر دیا ہے۔ الیکشن کمشن نے عام انتخابات کو شفاف بنانے کے لیے اقدامات شروع کر دیئے ہیں۔ بلدیاتی نمائندوں کو معطل کرنا اس لیے بھی ضروری تھا کیونکہ ملک بھر میں بلدیاتی نمائندوں کے عزیز و اقارب اور تعلق واسطے والے افراد الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں۔ دوسرا بلدیاتی نمائندوں کا کسی نہ کسی سیاسی جماعت سے تعلق بھی ہے۔ اس لیے ان کے بارے اپنی جماعت کے امیدواروں کو سپورٹ کرنے کا خدشہ برقرار تھا۔ اب ان کی معطلی سے یہ تاثر ختم ہو جائے گا کہ وہ کسی امیدوار کی انتخابی مہم میں سرکاری وسائل استعمال کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں فیصل آباد کے میئر نے بھائی کے حلقے میں سڑک کی تعمیر کروائی ہے جس پر فی الفور ایکشن ہوا ہے۔ اس بار پاکستان کا الیکشن کمشن نہ صرف غیر جانبدار ہے بلکہ وہ خود مختار بھی ہے۔ اسی لیے اس نے الیکشن کے عمل کو شفاف بنانے کے لیے ایسے انتظامات کیے ہیں جس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی لیکن ابھی بھی کئی ایسے معاملات ہیں جن پر مزید سختی کی ضرورت ہے۔ انتخابی مہم کے لیے مقررہ اخراجات کی جانچ پڑتال، نتائج مرتب کرنے کے عمل میں طباعتی، حسابی، دانستہ و غیر دانستہ غلطیوں کا کنٹرول، انتخابی شکایات سے نمٹنے کے طریقہ کار کو مضبوط بنانا، انتخابات کے لیے مقرر کیے گئے انتخابی اور عدالتی عملے پر مؤثرکنٹرول اور خصوصی طور پر ووٹرز کو ووٹ کاسٹ کرنے کے لیے بیدار کرنا، انہیں ووٹ کے فوائد بارے آگاہی دینا اور الیکشن ڈے پر امن و امان کی صورتحال کو کنٹرول رکھنا اور اگر کسی حلقے میں قواعد کی خلاف ورزی ہو رہی ہو تو اس پر فی الفور ایکشن لینا، اگر الیکشن کمشن ان معاملات کو بہتر انداز میں کنٹرول لیتا ہے تو پھر یہ کہنا بجا ہو گا کہ پاکستان کے الیکشن کمشن نے تاریخ کے مثالی اقدامات کیے ہیں اور انتخابات کی شفافیت پر بھی کسی فریق کو انگلی اٹھانے کی گنجائش نہیں ہو گی۔ اس سلسلے میں الیکشن کمشن کو اپنے وسیع اختیارات کو بروئے کار لانا ہو گا۔