اسلام آباد (خصوصی نیوز رپورٹر،92 نیوز رپورٹ )وزیر اطلاعات ونشریات فواد چودھری نے کہا ہے کہ وزیراعظم کی قیادت میں حکومت نے عوام ،سیاسی جماعتوں،دانشور طبقے کا انتخابی عمل پراعتماد بڑھانے کے لئے انتخابی اصلاحاتی پیکیج تیار کیا ہے اور الیکشن ایکٹ 2017 میں 49 تبدیلیاں کرنے کا فیصلہ کیا ہے ، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) اس بارے میں اپنا موقف واضح کرے ، انتخابی اصلاحات پیکیج کے لئے حکومت کے پاس اکثریت ہے لیکن چاہتے ہیں کہ اپوزیشن کو بھی اس عمل میں شامل کریں ،ملکی مفاد میں اپوزیشن پرچیوں کی سیاست سے باہر آئے اور انتخابی اصلاحات میں اپنا حصہ ڈالے ۔ پاک چائنہ فرینڈ شپ سینٹر میں وزیراعظم کے مشیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر بابر اعوان کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فواد چودھری نے کہا کہ ہر الیکشن کے بعد رونا دھونا ہوتا ہے مگر یہ جماعتیں اصلاحات کیلئے تیار نہیں، اصلاحات نہیں ہوں گی تو سیاسی و جمہوری ترقی رک جائے گی ، ای وی ایم سے نتیجہ بیس منٹ بعد ہی آجائے گا اور جھگڑا بھی نہیں بنے گا، انتخابی نظام میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین لانا چاہتے ہیں، ن لیگ پارلیمان کے بجائے تمام اختیارات الیکشن کمیشن کو دینے کی حامی ہے ، جب بھی انتخابات ہوتے ہیں نتائج پر سوالیہ نشان اٹھتا ہے ، یہ مسائل تب تک حل نہیں ہونگے جب تک ہمارے اندر آگے دیکھنے اور بڑھنے کی صلاحیت نہیں ہوگی ، شہباز شریف،خاقان عباسی اور احسن اقبال نے ای ووٹنگ مشین دیکھے بغیر ہی اسے صرف اس لئے مسترد کر دیا کہ یہ پی ٹی آئی دور حکومت میں تیار ہوئی ہے ۔ ڈاکٹر بابر اعوان نے کہا کہ اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے کے لیے ترمیم لارہے ہیں، سینٹ الیکشن اوپن ووٹنگ کے ذریعے کرانے کی ترمیم بھی لارہے ہیں، نادرا رجسٹریشن کے ڈیٹا کی بنیاد پر انتخابی فہرستیں تیار ہونی چاہئیں، ووٹرز کی بنیاد پر حلقہ بندیاں ہوں گی، پولنگ سٹاف کو چیلنج کیا جاسکے گا، ن لیگ انتخابی اصلاحات کے لیے سنجیدہ ہی نہیں، سیاسی جماعتوں کو پابند کیا جائے گا کہ وہ سالانہ کنونشن منعقد کریں۔