مکرمی !عالمی ادارہ صحت کے مطابق کورونا وائرس کسی لیب میں تیار نہیں ہوا، لگتا ہے اْس وقت تک چین پر "ملبہ" ڈالنے کا کوئی منصوبہ نہیں تھا اگر ہوتا تو یہ نہ کہا جاتا کہ یہ کوئی نیا وائرس نہیں ہے، پھر کہا گیا کہ یہ وائرس کسی چینی باشندے کی امریکہ آمد کی وجہ سے پھیلا،اس طرح امریکہ اور چین کی لفظی جنگ کا ڈبلیو ایچ او کو یہ نقصان ہوا ہے کہ وہ امریکی امداد سے محروم ہو گئی ہے یہ امداد اگر مستقل طور پر بند رہتی ہے تو دْنیا بھر میں ڈبلیو ایچ او کے منصوبوں کو نقصان پہنچے گا اور اس عالمی ادارے کے تعاون سے صحت کے پروگرام متاثر ہوں گے۔امریکہ اگر چینی لیبارٹریوں تک "شفاف رسائی" چاہتا ہے تو چین کا بھی یہ مطالبہ ہے کہ وہ دْنیا کو ان لیبارٹریوں تک رسائی دے جو اس نے ان ممالک میں قائم کر رکھی ہیں جو کبھی سوویت یونین کا حصہ تھے۔ امریکہ نے روس کے ہمسائے میں واقع ان ممالک میں اپنا وسیع تر اثرو رسوخ قائم کر رکھا ہے لیکن دْنیا کے حالات اِس بات کے متقاضی ہیں کہ امریکہ اور چین لفظی جنگ کو خیر باد کہہ کر اس وبا کو قابو پانے کے لئے اپنی توانائیاں اور وسائل صرف کریں- دْنیا بھر میں لاکھوں اموات کے بعد اب کروڑوں لوگوں کی روزی بھی بند ہوتی نظر آتی ہے- اِس لئے ضرورت اب دْنیا کو بھوک سے بچانے کی ہے۔دونوں ممالک کا الزام تراشی کا یہ کھیل بندکرکے انسانیت کی بقا وسلامتی کیلئے مشترکہ لائحہ عمل تیارکرنا وقت کی ضرورت ہے۔ (جمشید عالم صدیقی لاہور)