اسلام آباد(اظہر جتوئی)وزارت صنعت وپیداوار نے چیف ایگزیکٹو آفیسرنیشنل پروڈکٹیویٹی آرگنائزیشن کے حوالے سے سینٹ قائمہ کمیٹی برائے صنعت وتجارت کی سفارش کو کئی ماہ سے نظر انداز کر رکھا ہے جسکی وجہ سے سی ای او گزشتہ 9ماہ سے وزیر اعظم کی منظوری کے بغیر غیر قانونی طور پر سیٹ پر براجمان ہوکر لاکھوں روپے کی تنخواہ و مراعات لے رہے ہیں ۔این پی او میں چیف ایگزیکٹو آفیسر پر بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں اورمونوٹائزیشن قوانین کی دھجیاں اڑانے کے باوجود کوئی کارروائی نہیں کی جا رہی۔تفصیلات کے مطابق نیشنل پروڈکٹیویٹی آرگنائزیشن کے چیف ایگزیکٹو عبدالغفار خٹک کا اکتوبر 2018 میں کنٹریکٹ ختم ہوگیا تھاتاہم انہوں نے ایم پی ون کا آفیسر ہوتے ہوئے وزیر اعظم کی منظوری کے بغیرکنٹریکٹ میں توسیع اسوقت کے سیکرٹری صنعت و پیداوار سے لے لی، تین اپریل کو سینٹ قائمہ کمیٹی صنعت و تجارت کے اجلاس میں کمیٹی نے سی ای او کی خلاف ضابطہ توسیع پر بر ہمی کا اظہار کیا جس پر سیکرٹری صنعت اظہر علی اور اے ایس ون عبدالجبار شاہین نے کمیٹی کو یقین دلایا کہ نئے سی او کی بھرتی کا پراسس شروع کر دیاگیا اور پندرہ دن کے اندر سمری وزیر اعظم کو ارسال کر دی جائیگی لیکن کئی ماہ گزرنے کے باوجود اس پر عملدرآمد نہیں ہو سکا ۔ سی ای او کی ملازمین سے زیادتیوں کے حوالے سے این پی او ملازم کی شکایت پر وزرات صنعت نے انکوائری شروع کی مگردو ماہ گزرنے کے باوجود رپورٹ جمع نہیں کروائی جا سکی۔ذرائع کے مطابق این پی اومیں ساڑھے تین سال سے مونوٹائزیشن قوانین کیخلاف گاڑیوں اور پٹرول کا بے دریغ استعمال ہو رہا ہے ۔ سی ای اونے ہر ماہ95910روپے الائونس لینے کیساتھ ادارے کی گاڑی ،پٹرول اور ڈرائیور ذاتی استعمال میں رکھا ہوا ہے جو قانون کی خلاف ورزی ہے ۔ این پی او افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پربتایا کہ ساڑھے 3 سال میں 40 لاکھ کا نقصان ہو چکا ،آڈٹ اعتراضات سے بچنے کیلئے گاڑی کی لاگ بک کو جعلی طریقے سے مکمل کیا جاتا ہے اور ملازمین کو ڈرا دھمکا کر زبردستی دستخط کروائے جاتے ہیں ۔وزارت کے سیکرٹری عامر خواجہ سے بار بارموقف لینے کیلئے رابطہ نہ ہوسکا۔