عدالت عظمیٰ نے لاہور میں اورنج ٹرین منصوبے کی تکمیل میں تاخیر پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے تعمیراتی کمپنیوں کو 20مئی تک کام مکمل کرنے کا حکم دیدیا ہے۔ اورنج ٹرین منصوبہ سابق دور حکومت میں شروع ہوا۔ ٹریک کی تعمیر کے لئے سڑکوں کو اکھاڑا گیا۔ دکانیں اور مارکیٹیں مسمار کی گئیں جس سے ایک طرف بے روزگاری پھیلی اور دوسری طرف مسافروں کو بھی شدید مشکلات سے دوچارہونا پڑا جبکہ منصوبے میں تاخیر کے باعث لاگت میں بھی کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔اورنج ٹرین منصوبے کو 30دسمبر 2018ء کو مکمل ہونا تھا تاخیر کی صورت میں روزانہ 6کروڑ 76لاکھ روپے صوبائی حکومت کو بطور جرمانہ ادا کرنے تھے ۔اس وقت تعمیراتی کام تو مکمل ہو چکا ہے لیکن اسٹیشن پر مشینری کی تنصیب اور ریلوے ٹریک بچھانے پر کام جاری ہے جو ایک عرصے سے سست روی کا شکار ہے۔ عدالت نے منصوبے کی نگرانی کے لئے جسٹس زاہد حسین کو سربراہ مقرر کیا تھا لیکن اس کے باوجود کام کچھوے کی رفتار سے جاری ہے جس کے باعث مشکلات بڑھتی جا رہی ہیں۔ عدالت نے تعمیراتی کمپنی کو 20مئی تک کام مکمل کرنے کا حکم دیا ہے بصورت دیگرٹھیکیداروں جیل کی ہوا کھانا ہو گی۔ عدالت نے کمپنی سے گارنٹی لے رکھی ہے امید ہے تعمیراتی کمپنی نے جو وقت عدالت سے لیا ہے اس مقررہ وقت کے اندر اندر وہ اپنا کام مکمل کر لے گی۔ اس منصوبے کی تاخیر سے نہ صرف وہاں کے رہائشیوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے بلکہ ٹریفک جیسے سنگین مسائل بھی جنم لے رہے ہیں اورنج ٹرین منصوبے کی مقررہ تاریخ تک تکمیل وقت کی ضرورت ہے۔