لاہور ( رانا محمد عظیم) پنجاب کے سابق حکمرانوں اور بیوروکریسی کیلئے نیب کا ایک اور شکنجہ تیار کر لیا گیا، اورنج لائن ٹرین منصوبے کی زمین اور عمارتوں کی خرید و فروخت میں اربوں روپے کے گھپلوں، بوگس ادائیگیوں، کئی افراد کو ملی بھگت سے زمین اور عمارت کی قیمت سے کئی گنا زیادہ ادائیگیوں کے اہم شواہد تفتیشی اداروں کو مل گئے ۔ ٹھوکر اور چوہنگ میں دس ارب کی ادائیگیاں کس سیاسی شخصیت کے کہنے پر کی گئیں، زمین اور ملبے کی قیمت کتنے گنا زیادہ دی گئی ،شالیمار ٹاؤن، واہگہ اور گلبرگ ٹاؤن میں بوگس ادائیگیوں اور زیادہ قیمت ادا کرنے کے شواہد بھی مل گئے ۔ نیب میں گرفتار ایک معروف بیوروکریٹ نے بھی اس حوالے سے اہم انکشافات کئے اور اقرار کیا ہے کہ وہ کس کس اہم حکومتی شخصیت اور ارکان اسمبلی کے کہنے پر رقوم کی ادائیگیوں میں مدد کرتے رہے ، کون کون سے تحصیلدار اور پٹواری اس معاملے میں مدد کرتے رہے ، کتنی کتنی رقم کس کس کے حصے میں آئی ، کتنی جعلی فردوں پر ادائیگیاں ہوئیں جبکہ کئی ایسی بھی ادائیگیاں کی گئیں جو رقبہ گکیوں اور سڑکوں میں آتا تھا اور ان کی فردوں کو استعمال کر کے مختلف ناموں پر رقبے دیئے گئے ۔ با وثوق ذرائع کے مطابق ایک سابق ایم پی اے اور موجودہ ایم این اے ، ایک اہم حکومتی شخصیت اور پنجاب سے تعلق رکھنے والے دو معروف سابق وزراء کے حوالے سے بتایا گیا کہ ٹھوکر ،چوہنگ اور ملتان روڈ پر کئی ایسے رقبے کی ادائیگیاں کی گئیں جن کی فرد درست نہیں ۔ دس ارب روپے کی فوری ادائیگی زمین سے زیادہ ملبے کی قیمت لگا کرکی گئی اور یہ سب ایک ایم این اے اور ایک ایم پی اے اپنی نگرانی میں کراتے رہے ، اس میں سے بڑا حصہ دو اہم ترین شخصیات کودیا گیا ۔ یہ بھی ثبوت مل چکے کہ بہت سی ادائیگیوں میں مالکان کو کم رقم دے کر زیادہ کے کاغذات پر دستخط لئے گئے ۔ اس کام میں پٹواریوں اور تحصیلداروں کی باقاعدہ ایک ٹیم ملوث تھی جو منصوبہ کے روٹ میں آنے والے متاثرین کو پہلے اس قدر تنگ کرتے تھے کہ وہ ادائیگیوں کیلئے انہیں کہیں کہ ہمیں کچھ بھی دے دو،کاغذات پر سائن کردینگے ۔منصوبہ کے روٹ کے حوالے سے ایل ڈی اے اور محکمہ مال کے افسران نے بہت سی زمینیں سستے داموں پہلے ہی خرید لی تھیں جوبعد میں ملی بھگت کر کے کئی گنا زیادہ قیمت پر بیچی گئیں۔معاملے کی تفتیش جلد مکمل ہونے والی ہے جس کے بعدپنجاب کی چار اہم ترین سابق حکمران شخصیات، ایک سابق وفاقی وزیر ،ایک موجودہ ایم این اے اورایک سابق ایم پی اے کی گرفتاری عمل میں آ سکتی ہے ۔