وفاقی حکومت نے ترسیلات زر کو قانونی ذرائع سے فروغ دینے کیلئے 5 مختلف اقسام کی سکیموں کا اعلان کیا ہے۔ ایک سکیم کے تحت 100ڈالر سے اوپر ترسیلات زر پر کوئی چارجزیا فیس وصول نہیں کی جائے گی جبکہ دوسری سکیم کے مطابق ترسیلات زر بھیجنے والوں کو پوائنٹس دیے جائیں گے، جن کے تحت وہ کئی سرکاری اداروں سے خدمات اور اشیا رعایتی نرخوں پر حاصل کر سکیں گے جبکہ تیسری سکیم کے مطابق حکومت ایکسچینج کمپنیوں کیلئے بھی مراعات فراہم کریگی۔اوورسیز پاکستانیوں نے کم ازکم ایک ڈیڑھ برس سے ملک میں ترسیلات زر بھیجنے سے ہاتھ کھینچ رکھاہے ۔جس کے باعث ملک شدید مشکلات کا شکار ہے ۔اب نگران حکومت نے اوورسیز پاکستانیوں کو ملک میں ترسیلات زر بھیجنے کے بدلے مراعات دینے کا اعلان کیا ہے ۔جو خوش آئند ہے ۔مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اوورسیز پاکستانیوں کو یہ مراعات اپنی جانب راغب کر سکیں گی یا نہیں کیونکہ اوور سیز پاکستان کا انعام حاصل کرنا مسئلہ ہی نہیں ۔بلکہ وہ چاہتے ہیں کہ انھیں ووٹ کا حق دیا جائے ۔پاکستان میں انکی جائیدادوں کی حفاظت یقینی بنائی جائے ۔ائیر پورٹ پر انھیں تنگ نہ کیا جائے ۔ پانچویں سکیم قرعہ اندازی پر مشتمل ہے جس کے تحت قانونی ذرائع کے ذریعے زیادہ ترسیلات زر بھیجنے والوں کو بذریعہ قرعہ اندازی نقد انعامات دیے جائیں گے۔حکومت انعامی سکیموں کی بجائے تارکین کوووٹ کا حق دے تو وہ بخوشی اپنے اثاثے پاکستان منتقل کرنے کیلئے بھی تیار ہوں گے ۔