اسلام آباد(خصوصی نیوز رپورٹر،سٹاف رپورٹر) شناختی کارڈ کی شرط کے خاتمہ سمیت دیگر مطالبات کیلئے تاجروں نے اسلام آباد میں احتجاجی ریلی نکالی اور دھرنا دیا، اس موقع پرایف بی آر حکام اور تاجر رہنمائوں کے درمیان مذاکرات ناکام ہونے کے بعد28 اور 29 اکتوبر کو ملک بھر میں شتر ڈائون کا اعلان کر دیا گیا جبکہ15 اکتوبر سے روزانہ ایک گھنٹہ احتجاج کیا جائیگا۔ٹیکس نظام کے خلاف تاجروں نے آبپارہ سے احتجاجی ریلی نکالی اور سرینا چوک پر جب ان کو روکا گیا تو انہوں نے پولیس پر پتھرائوشروع کردیا جبکہ مظاہرین کی پولیس اہلکاروں کے ساتھ ہاتھا پائی بھی ہوئی۔مظاہرین نے مظاہرین نے خاردار تاریں، رکاوٹیں ہٹا دیں جبکہ ریڈزون جانے والی شاہراہ پر سیرینا چوک میں دھرنا دیدیا اور حکومت کی معاشی پالیسیوں اور ایف بی آرکیخلاف شدید نعرے بازی کی۔ اس موقع پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی جبکہ ریڈ زون کو خاردار تاریں لگا کرسیل کردیا گیا تھا۔ تاجروں نے ریڈ زون کی طرف مارچ کرنا چاہا تو انھیں روک لیا گیا تاہم مظاہرین نے پولیس پر پتھرائو کیا جبکہ پولیس نے بھی لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس کے گولے پھینکے ،بعد ازاں واٹر کینن اور پولیس کی اضافی نفری بھی طلب کرلی گئی۔ تاجر برادری اور ایف بی آر حکام کے درمیان مذاکرات کے دو دور ہوئے جو ناکام ہوگئے ۔ ایف بی آر نے شناختی کارڈ کی شرط ختم کرنے سے انکار کردیا جبکہ تاجر تحریری معاہدہ کرنے پر بضد تھے اور انکا موقف تھا حکومت جو مرضی کر لے شناختی کارڈ نہیں دینگے ۔9نکاتی ایجنڈا ایف بی آر حکام کے حوالے کرتے ہوئے تاجررہنمائوں نے مطالبہ کیا کہ50 ہزار سے زیادہ کی سیل پر شناختی کارڈ کی کاپی کی شرط ختم کی جائے اور نوٹیفکیشن واپس لیا جائے ، ایف بی آر حکام نے کہا نوٹیفکیشن میں تبدیلی کر دی گئی ہے ۔ تاجر رہنمائوں نے جزوی تبدیلی تسلیم کرنے سے انکار کردیا اور کہا نوٹیفکیشن کی واپسی تک احتجاج جاری رہے گا۔انہوں نے کہا حکومت نے فکسڈ ٹیکس سکیم کا وعدہ کیا تھا،حکام ہراساں کرتے ہیں۔دوسری جانب ایف بی آر حکام کے مطابق نوٹیفکیشن کی منسوخی کا فیصلہ مشیر خزانہ اور وزیراعظم کی غیر موجودگی میں نہیں ہو سکتا۔ تاجر رہنمائوں نے مطالبہ کیا کہ نوٹیفکیشن کی منسوخی کا حکم چیف آف آرمی سٹاف اور وزیراعظم کی یقین دہانی کی روشنی میں جاری کیا جائے جبکہ ایف بی آر حکام نے کہا کہ انھیں ایسے کوئی واضح احکامات نہیں ملے ۔چیئرمین انجمن تاجران پاکستان خواجہ شفیق اور دیگر تاجر رہنمائوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ15 اکتوبرکو ایک گھنٹے کی ہنگر سٹرائیک کی جائیگی جبکہ 28 اور29 اکتوبر کو ملک بھر میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کرینگے ۔انہوں نے کہا کہ ایف بی آر کوئی بات سننے کو تیار نہیں۔تاجر کمیونٹی نے اس بات کا اظہار کیا تھا کہ وہ غیر منصفانہ ٹیکسوں کو نہیں مانتے ،تاجر برادری محب وطن ہے ٹیکس دینے سے انکاری نہیں ،قیادت نے فیصلہ کر لیا ہے کہ شناختی کارڈ کی شرط کو نہیں مانتے ،اس موقع پر سیکرٹری جنرل انجمن تاجران نعیم میر نے کہا کہ ہم آج بھی اپنے مؤقف پر قائم ہیں، ہم غیر منصفانہ ٹیکس نہیں دیں گے ،ہڑتال، احتجاج کرنے کے ہمارے پاس تمام راستے ہیں۔ صدر تاجران اجمل بلوچ نے کہا وزیر اعظم اگر آپ نے چوروں کو بٹھانا ہے تو یہ ملک نہیں چلے گا، ایف بی آر چاہتا ہی نہیں کہ مذاکرات ہوں ،اگر چوروں کو ایسے اداروں میں بٹھایا ہے تو نتائج بھگتیں۔دوسری جانب مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کے سید عبدالقیوم آغا نے کہا ہے کہ بغیر مشاورت اعلان کردہ ہڑتالوں سے لاتعلقی کا اعلان کرتے ہیں۔صدر محمد کاشف چودھری نے کہا ہے کہ بغیر مشاورت ہڑتال کا اعلان تاجروں کو تقسیم کرنے کی حکومتی سازش و تاجر کاز سے غداری ہے ، تین دن کی ڈیڈ لائن مکمل ھونے پر مشاورت سے ملک گیر احتجاجی حکمت عملی و شٹر ڈاؤن کی تاریخوں کا اعلان کر ینگے ۔ چیئرمین مرکزی تنظیم تاجران پاکستان خواجہ سلمان صدیقی نے کہا تاجر پرامن طبقہ ہے جو ٹکراؤ و توڑ پھوڑ کے راستے کو اختیار نہیں کرتا۔ ادھر ترجمان چیئرمین پی پی پی سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر نے اسلام آباد میں تاجروں پر پولیس تشدد کی مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ لاٹھی گولی کی سرکار نہ پہلے چل سکی نہ اب چلے گی۔