گورنر ہائوس کی دیواریں گرا کر لوہے کی باڑ لگانے کا حکم سنا تو محمد تغلق یاد آ گیا۔ دارالحکومت دہلی سے ہزاروں میل دور، جنوبی ہند میں لے گیا۔ کچھ جاتے ہوئے لقمۂ اجل بنے۔ بعض کے صرف اعضا پہنچے۔ جب مقیم ہو چکے تو واپسی کا حکم صادر ہوا۔ ابراہام ایرالی نے Delhi Sultanate میں اس کی روح فرسا تفصیلات نقل کی ہیں۔ تو کیا وزیر اعظم کے ذہن میں یہ نکتہ تھا کہ یہ دیواریں انگریزی حاکمیت کی علامت ہیں؟ اور اس امر کی غمازی کرتی ہیں کہ حکمرانوں اور عوام کے درمیان رکاوٹیں ہیں؟ مگر وہ مقصد تو اسے عجائب گھر یا سیرگاہ یا یونیورسٹی بنانے سے پورا ہو جائے گا۔ جب ’’گورنر ہائوس‘‘ کا بورڈ ہی ہٹ گیا تو دیواریں قائم بھی رہیں تو کیا حرج ہے۔ کیا یونیورسٹیوں یا عجائب گھروں یا سیر گاہوں کے گرد چار دیواریاں نہیں ہوتیں۔ دعویٰ ہے کہ خاتون اوّل رومیؔ کو سمجھتی ہیں۔ تو کیا خاتون اول نے رومیؔ کے اس اصول پر عمل کروایا ہے؟ ؎ گفت رومی ہربنائے کہنہ کآباداں کنند می ندانی اول آں بنیاد را ویراں کنند کہ ہر پرانی بنیاد، جسے نیا کرنا ہو، پہلے گرائی جاتی ہے۔ رومی نے اس شعر میں یقینا اشارہ گورنر ہائوس کی دیواروں کی طرف نہیں کیا تھا!! مگر دیواریں جو سوشل میڈیا پر اٹھائی جا رہی ہیں ان کا کیا ہو گا؟ کیا کسی کو احساس ہے کہ سوشل میڈیا اس ملک میں فرقہ واریت کا زہر پھیلا رہا ہے۔ مسلسل پھیلا رہا ہے اور وسیع و عریض پیمانے پر پھیلا رہا ہے۔ مسلکی بنیادوں پر اندرونی یا بیرونی دشمن کا ایک لمبا چوڑا ایجنڈا ہے جو بروئے کار لایا جا رہا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ ایک طرف آرمی چیف کہہ رہے ہیں کہ ’’ہائبرڈ جنگ مذہبی، مسلکی اور نسلی بنیادوں پر لڑی جا رہی ہے۔ اس معاملے میں مشترکہ طور پر جامع قومی جواب کی ضرورت ہے۔ ہماری ذمہ داری مزید بڑھ گئی ہے۔‘‘ دوسری طرف تیسرے درجے کے مولوی، ذاکر، واعظ رات دن آگ اگل رہے ہیں۔ یہاں تک کہ ایسے ویڈیو کلپ سننے والوں کی تعداد لاکھوں میں ہے جن میں اس قسم کی نظمیں گائی جا رہی ہیں کہ جنت بنی ہی فلاں فرقے کے سربراہ کے لیے ہے اور دوزخ فلاں فرقے کے سربراہ کے لیے تخلیق کی گئی ہے۔ جب کہ دونوں فرقے گزشتہ ڈیڑھ دو سو برسوں میں ظہور پذیر ہوئے ہیں۔ شیعہ سنی، اہل حدیث، حنفی اور دیگر مسالک کے اختلافات آج نہیں پیدا ہوئے۔ چودہ سو برس سے یہ اختلافات چلے آ رہے ہیں۔ پوری دنیا کے مسلمان اپنے اپنے علماء اپنے اپنے ائمہ کرام کی تشریحات کے مطابق اسلام پر عمل پیرا ہیں، مگر تیسرے درجے کے مولوی اور ذاکر ان اختلافات کو جس طرح اچھال رہے ہیں، اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ ’’اب یا کبھی نہیں‘‘، یعنی Now or Never’’ہماری بات مانو، ورنہ پرخچے اڑا دیں گے‘‘ قرأت خلف الامام، رفع یدین، خلافت و امامت اور دوسرے اختلافی مسائل پہلے صرف اعلیٰ تعلیم یافتہ سکالروں کی حد تک محدود تھے۔ پہلے یہ بحثیں مدارس میں ذی وقار علماء کرام کے درمیان ہوتی تھیں۔ سنی شیعہ، مقلد، غیر مقلد سب بھائی بھائی تھے۔ شیعہ، سنی علما کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کرتے تھے۔ سنی شیعہ علما کے شاگرد تھے۔ رواداری کا یہ عالم تھا کہ دیوبندی مسلک کے جید عالم سید انور شاہ کاشمیری گولڑہ شریف تشریف لائے تو حضرت پیر مہر علی شاہ رخصت کرنے پا پیادہ تانگہ اڈے تک ان کے ہمراہ تشریف لائے۔ اہل حدیث عالم مولانا دائود غزنوی، حنفی عالم مولانا احمد علی لاہوری(بانی خدام الدین) کے پاس آئے تو مروتاً ان کے ہمراہیوں اور شاگردوں نے نماز کے دوران اونچی آمین نہ کہی اور مولانا احمد علی کے معتقدین نے رواداری کی خاطر آمین بالجہر کہی۔ پچاس ساٹھ برس پہلے تک شیعہ اور سنی علما ایک دوسرے کے گھروں اور مدارس میں آ کر ایک دوسرے کے مہمان بنتے تھے اور بحث مباحثہ کے باوجود دل میں ملال نہیں آتا تھا۔ رشتہ داریاں مشترکہ تھیں۔ اس سے بھی پیچھے چلیے۔ امام مالکؒ حضرت امام جعفر صادقؒ کے بارے میں فرماتے ہیں! ’’میں امام جعفر صادق کی خدمت میں حاضر ہوا وہ ہمیشہ متبسم نظر آتے تھے لیکن جب ان کے سامنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر ہوتا تو وفور تاثر سے ان کا چہرہ زرد پڑ جاتا۔ میں ایک عرصۂ دراز تک ان کی خدمت میں حاضر ہوتا رہا یا تو وہ نماز میں مصروف نظر آتے یا روزے کی حالت میں ہوتے یا قرآن پاک کی تلاوت کر رہے ہوتے۔ میں نے ایسا کبھی نہیں دیکھا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث بیان کی ہو اور وہ باوضو نہ ہوں۔ وہ اپنے وقت کے بہت بڑے عابد اور زاہد تھے جو صرف خدا سے ڈرتے تھے۔ میں جب کبھی ان کی خدمت میں حاضر ہوا تو جس گدیلے پر تشریف فرما ہوتے تھے اسے اٹھا کر میرے لیے بچھا دیتے تھے‘‘۔ کیسا احترام میں گندھا ہوا ایک ایک لفظ ہے اور کیا سرپرستی اور رواداری تھی جس کا اظہار حضرت امام،امام مالک کے ساتھ برتتے تھے۔ تو کیا ان میں اختلافات نہیں تھے؟ آج غضب یہ ہو رہا ہے کہ سنیوں کی زبان پر ائمہ کبار کا ذکر مشکل سے آتا ہے اور شیعہ اپنے ہی ائمہ کے قد آور شاگردوں اور مریدوں کے ذکر سے پہلو تہی کرتے ہیں۔ پھر اختلافی مسائل کی یہ بحث جلسوں جلوسوں تک آ گئی۔ یہاں تک بھی بچائو کی صورتِ حال میسر تھی۔ مگر اب ہلاکت یہ آن پڑی ہے کہ یہ اختلافات سوشل میڈیا کے ذریعے ہر گھر، ہر بیٹھک، حجام کی ہر دکان اور ہر گلی کی ہر نکڑ پر سنے اور سنائے جا رہے ہیں۔ زبان عامیانہ ہے۔ انداز مبتذل ہے۔ مضامین سوقیانہ ہیں۔ لہجہ جارحانہ ہے۔ پورے کا پورا اسلام ہاتھ باندھنے، ہاتھ چھوڑنے، رفع یدین کرنے اور نہ کرنے میں سمٹ آیا ہے۔ یہ آتش خور واعظ علم سے بے بہرہ ہیں۔ ان کے حواریوں کے ہاتھ میں سوشل میڈیا اس طرح آ گیا ہے جیسے بندر کے ہاتھ میں استرا آ گیا تھا۔ فیس بک پر، وٹس ایپ پر، ای میل پر، انٹرنیٹ پر، بھڑکتی آگ کے شعلے آسمان تک پہنچ رہے ہیں۔ یوٹیوب کے ایسے کلپ لاکھوں کی تعداد میں ریوڑیوں کی طرح بانٹے جا رہے ہیں جو نفرت کا پرچار کر رہے ہیں۔ تکفیر کے اڈے ہیں جو گلی گلی کوچہ کوچہ گھر گھر قائم ہو گئے ہیں۔ رات دن عفریت نما گزگز لمبی زبانیں خانہ جنگی کے بیج بو رہی ہیں۔ ایجنسیاں کہاں ہیں؟ کیا وہ اس صورت حال سے بے خبر ہیں؟ اگر بے خبر ہیں تو ان کی کارکردگی پر افسوس ہے! اگر با خبر ہیں تو انسداد کے لیے کیا کر رہی ہیں؟ کوئی مانے یا نہ مانے، ہر قسم کے مذہبی ویڈیو کلپس پر پابندی عائد کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ آج نہیں تو ایجنسیوں کو کل یا پرسوں یہی کچھ کرنا پڑے گا اور کل یا پرسوں تک بہت تاخیر ہو چکی ہو گی۔ اپنے اپنے عقاید کو اپنے اپنے دلوں اور دماغوں تک محدود رکھنا ہو گا۔ کیا ستم ہے کہ مذہبی عقاید سینوں سے نکل گئے اور گاڑیوں کے عقبی شیشوں، دکانوں کے سائن بورڈوں اور مسجدوں کے بیرونی دروازوں کی پیشانیوں پر ابھر آئے۔ ہلاکت کے ان بمبار جہازوں کو گرائو ورنہ محمدؐ اور آلِ محمدؐ کی قسم! مدرسہ مدرسہ نہیں، مسجد مسجد نہیں، گھر گھر آگ بھڑکے گی۔