تہران؍ واشنگٹن؍برسلز(نیوز ایجنسیاں)فرانس، جرمنی اور برطانیہ نے ایران پر زوردیا ہیکہ وہ خطے میں تخریبی سرگرمیوں اور دوسرے ممالک میں مداخلت سے باز رہے ۔ ایک مشترکہ بیان میں تینوں ملکوں نے کہا ہے کہ حالیہ پیشرفت نے ایران کے تخریبی اور عدم استحکام سے دوچار کرنے والے کردار کو دنیا کے سامنے مزید نمایاں کیا ہے ۔انہوں نے ایران پر اقوام متحدہ کی طرف سے عائد کردہ پابندیاں دوبارہ نافذ کرنے کا بھی عندیہ دیا۔فرانس ، برطانیہ اور جرمنی نے ایران سے مطالبہ کیا کہ جوہری معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی مکمل تعمیل کی جائے اور جن شرائط سے تہران نے سبکدوشی اختیار کی ہے ،انہیں دوبارہ فعال کرے ۔تینوں یورپی دارالحکومتوں نے تہران اور واشنگٹن کے مابین تنازع کے تناظر میں ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ ہمارا پیغام واضح ہے ،ہم ایران کے ساتھ طے پائے جوہری معاہدے کے پابند اور اسے جاری رکھنے کے حامی ہیں۔امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان مورگن اوٹاگس نے تمام ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ کشیدگی پر روک لگانے کیلئے تعاون کریں،اس وقت سب کی جانب سے مدد کرنا لازم ہے تا کہ ایران کے شرپسند اور دہشت گردانہ رویے کا سلسلہ روکا جا سکے اور اس رویے کو تبدیل کرنے کے لئے امریکہ اور یورپ کے ساتھ مذاکرات کو ممکن بنایا جا سکے ۔اوبرائن نے امریکی ٹی وی سے گفتگو میں کہا ایران کے گرد گھیرا تنگ ہو رہا ہے اور اب مذاکرات کی میز پر آنے کے سوا اس کے پاس کوئی چارہ نہیں۔ادھر ایران نے یوکرین طیارہ حادثے کے مسافروں کو زر تلافی دینے پر رضا مندی ظاہر کردی۔مرکزی انشورنس کمپنی کے سربراہ غلام رضا سلیمانی نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ یوکرین کا جہاز انسانی غلطی کی وجہ سے ایران میں تباہ ہوا جس کی وجہ سے حکومت متاثرین کو ادائیگی کے سلسلے میں اچھا تعاون کرے گی۔تہران میں یوکرینی طیارہ گرائے جانے کے خلاف مظاہرے جاری ہیں جبکہ حکومت پر واقعہ میں ملوث اعلیٰ حکام کو برطرف کرنے کیلئے دبائو بڑھ رہا ہے ۔تہران میں پولیس کے سربراہ حسین رحیمی نے کہا ہے کہ مقامی پولیس نے احتجاج کرنے والے مظاہرین پر کوئی فائرنگ نہیں کی، سکیورٹی دستوں کو بہت زیادہ احتیاط اور برداشت کا مظاہرہ کرنے کا حکم دیا جا چکا ہے ۔ ادھر برطانیہ نے ایران میں تعینات برطانوی سفیر کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کے لئے ایرانی سفیر کو طلب کر لیا۔برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کے ترجمان نے اس اقدام کو سفارتی تعلقات کے لئے ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ برطانوی حکومت ایران میں اپنے سفیر کی گرفتاری پر شدید اعتراض اٹھائے گی۔