کورونا وائرس اور اس سے پیدا ہونیوالے شدید معاشی بحران کی وجہ سے ایف اے ٹی ایف کے ایکشن پلان پر عملدرآمد رک گیا ہے‘ جس کے بعد فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے پاکستان کو اہداف حاصل کرنے کے لئے اکتوبرتک کی مہلت دیدی ہے۔ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے پاکستان کو 27نکاتی ایکشن پلان دیا تھا۔ جس میں سے پاکستان نے 14نکات پر عملدرآمد کر لیا ہے لیکن ابھی 13نکات پر عمل کرنا باقی ہے۔ کورونا وائرس کے باعث جن پر عمل کرنا مشکل ہے‘ ان دنوں پاکستان سمیت تقریباً اکثر و بیشتر ممالک میں لاک ڈائون ہے،ہر ملک کو اپنے عوام کے جان و مال کی حفاظت یقینی بنانے کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔ ان حالات میں ایف اے ٹی ایف کی شرائط کو پورا کرنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے۔ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے پاکستان کو مزید سات ماہ کا وقت دے دیا ہے تاکہ وہ لاک ڈائون کے بعد آسانی سے ان پر عملدرآمد کر سکے۔ اس وقت پاکستان نے ڈالر سمگلنگ کی روک تھام کا قانون بنانے سے لے کر کالعدم تنظیموں کے افراد کو سزائیں دینے سمیت مختلف قسم کے قوانین بنا لئے ہیں۔ جس سے پاکستان کی ایف اے ٹی ایف کی شرائط کو پورا کرکے اپنے آپ کو گرے لسٹ سے نکالنے کی کوششیں نظر آتی ہیں۔ اگر پاکستان اسی عزم کے ساتھ کام کرتا رہا تو آئندہ 7ماہ کے دوران مکمل 27نکات پر عملدرآمد کر کے دنیا کے سامنے سرخرو ہو گا۔ لاک ڈائون کے باعث کافی چیزوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔ جیسے یہ مشکل وقت گزرے گا۔ تب تاجر برادری کے ساتھ بات چیت کر کے باقی ماندہ اہداف کو بھی حاصل کر لیا جائے گا۔