فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) نے حکومت پاکستان کو مطالبات کی ایک فہرست دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کے تمام صرافہ بازار دستاویزی بنائے جائیں‘ سونے کی خریدوفروخت نقدی کی بجائے بنک کارڈ سے کی جائے۔ زیورات خریدنے والوں کا ڈیٹا اکٹھا کیا جائے‘ اس بات کو بھی یقینی بنایا جائے کہ زیورات دہشت گرد تنظیموں کے پاس نہ پہنچنے چاہئیں۔ ایف اے ٹی ایف کی طرف سے نئے مطالبات کی یہ فہرست حکومت پاکستان کو یرغمال بنانے کے مترادف ہے۔ یہ مطالبات نہ صرف ناقابل عمل ہیں بلکہ یہ ایک طرح سے پاکستان کے نظام معیشت میں نقب لگانے کے مترادف ہے۔ یہ پاکستان کو غیر محسوس طریقے سے عالمی ساہوکار اور سودی نظام کے ساتھ جوڑنے کی سازش ہے۔ پاکستان میں بہت سے لوگ ذاتی طور پر اور بہت سے خیراتی ادارے اربوں روپے کی زکوٰۃ وصدقات اور خیرات کرتے ہیں۔ زیورات کے لین دین میں لوگوں کو کارڈز کا پابند بنانا نہ صرف لوگوں کے لئے مسائل کا باعث بنے گا بلک اس سے ارتکاز دولت کا بھی خطرہ ہے۔ ان کارڈوں کے ذریعے مشتری اور دکاندار کو تو شاید فائدہ نہ ہو لیکن ایف اے ٹی ایف کو ضرور کوئی نہ کوئی فائدہ پہنچے گا۔ ابھی ہم آئی ایم ایف کے چنگل سے بھی نکل نہیں پائے کہ ایف اے ٹی ایف نئے مطالبات لے کر سامنے آ گیا ہے‘پاکستان ایف اے ٹی ایف کو آج اپنی کارکردگی کی تیسری رپورٹ پیش کر رہا ہے اور چوتھی جولائی میں جمع کرانی ہے‘ سوال یہ ہے کہ کیا ہم ان اداروں کے غلام ہیں؟ کیا پاکستان کے عوام کی کوئی آزادی نہیں ہے؟ کیا ہمیں ان اداروں کو اپنی معیشت میں نقب زنی کی آزادی دینی چاہیے‘ لہٰذا بہتر ہو گا کہ ان مطالبات کو ناقابل قبول قرار دے کر رد کر دیا جائے۔