اسلام آباد(سہیل اقبال بھٹی)سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کیخلاف ایل این جی ٹرمینل سکینڈل کی تحقیقات میں وزارت توانا ئی کی ماتحت کمپنی انٹرسٹیٹ گیس سسٹم کے ایم ڈی مبین صولت وعدہ معاف گواہ بن گئے ۔ ایل این جی ٹرمینل کی تعمیر اور قطرسے ایل این جی خریداری میں کلیدی کردارادا کرنے والے مبین صولت نے نیب میں 4 صفحاتی بیان میں شاہد خاقان عباسی،مفتاح اسماعیل،سابق ایم ڈی گورنمنٹ ہولڈنگ پرائیویٹ لمیٹڈ شاہد اسلام سمیت دیگرافسرانپرذمہ داری عائد کردی ہے ۔وزیر پٹرولیم کی ہدایت پر ایل این جی ٹرمینل سے متعلقہ سرگرمیوں پر ہم آہنگی پیدا کرنے کیلئے کردار ادا کیا۔فاٹکو نے اینگرو ایل این جی ٹرمینل سائٹ کے حوالے سے وزیراعظم کو لکھے گئے خط میں تشویش کا اظہار کیا جس کا جواب وزیر پیٹرولیم شاہد خاقان عباسی نے دیا۔ پیشہ ور اکاؤنٹنٹ ہونے اور فنانشل اور کمرشل تجربے کی وجہ سے میرے لئے ایل این جی ٹرمینل کے اینگرو کیمیکل ٹرمینل میں نصب کرنے کے فوائد اور نقصانات کا اندازہ لگانا میرے لئے ممکن نہیں تھا۔مبین صولت نے وزارت پٹرولیم کواپنی نااہلیت اور مفادات کے ٹکراؤ کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے دومرتبہ استعفیٰ دیا مگرسابق وزیرپٹرولیم شاہد خاقان عباسی نے استعفیٰ منظور نہ کیا۔مفتاح اسماعیل نے سوئی سدرن کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین کی حیثیت سے تن تنہا پی ایس او اور سوئی سدرن کے درمیان ابتدائی ایل این جی کارگو ایگریمنٹ کو حل کیا۔92نیوز کوموصول مبین صولت کے ایل این جی سکینڈل میں نیب میں جمع کرائے گئے تحریری بیان کی کاپی کے مطابق پاکستان اور قطر کے درمیاں حکومتوں کے معاہدے کے تحت مجھے قطر کے ساتھ ایل این جی سیل پرچیز ایگریمنٹ پر بات چیت اور اس کو مکمل کرنے کی ذمہ داری تھی ۔ مجھے وزیرپٹرولیم شاہد خاقان عباسی نے ہدایت کی کہ معاہدے کی شرائط سے پہلے پی ایس او ٹیم اور ان کے کنسلٹنٹ کی مدد کیلئے مشاورتی سیشن میں شرکت کروں ۔تمام مشاورتی اجلاس کی صدارت قائم مقام ایم ڈی پی ایس او شاہد اسلام نے کی۔پرائس نیگوسی ایشن کمیٹی کے چیئرمین سیکرٹری پٹرولیم ارشد مرزا تھے لیکن پرائس نیگوسی ایشن مفتاح اسماعیل نے کی جو کہ پی این سی کے ممبر تھے ۔ مفتاح اسماعیل اس حوالے سے وزیر پٹرولیم کے ساتھ مسلسل رابطے میں تھے اور دوسرے ممبرز کو ہدایت بھی دیتے رہے ۔ قائم مقام ایم ڈی پی ایس او شاہد اسلام کو قطر گیس سے پی این سی تک قیمت کے حوالے سے تجاویز سیل کے ساتھ پہنچانے کیلئے نامزد کیا گیا تھا۔آئی ایس جی ایس کے بورڈ جس کی سربراہی سیکرٹری پٹرولیم تھے اور باقی ممبران میں ایڈیشنل سیکرٹری پٹرولیم، جوائنٹ سیکرٹر ی پٹرولیم،ایم ڈی سوئی سدرن،ایم ڈی سوئی ناردرن،چیف سیکرٹری بلوچستان، شہزاد علی خان،زبیر موتی والا شامل تھے نے مجھے اختیار دیا کہ میں سوئی سدرن کی طرف سے ٹینڈر کا آغاز کروں،سوئی سدرن کے بور ڈ نے بھی اس کی منظوری دی۔سوئی سدرن پراجیکٹ کیلئے پروکیورنگ ایجنسی تھی اور آئی ایس جی سی کو مینڈیٹ دیا گیا تھا کہ وہ ایل این جی ٹرمینل پراجیکٹ میں مشاورت کریں۔ مفتاح اسماعیل کی سربراہی میں سوئی سدرن کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے کامیاب بولی لگانے والے کی بولی کی منظوری دی اور انتظامیہ کو ہدایت کی کہ ایل این جی سروسز ایگریمنٹ پر بات چیت کریں۔فاٹکو نے ایل این جی ٹرمینل سائٹ کے حوالے سے وزیراعظم کو لکھے گئے خط میں تشویش کا اظہار کیا جس کا جواب وزیر پٹرولیم شاہد خاقان عباسی نے دیا جس میں انہوں نے کہا کہ تمام جوابات وزارت کے ریکارڈ سے حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ قطر کی طرف سے مناسب قیمت کے حوالے سے اصرار کیا گیا جس پر میں نے تجویز دی کہ آزادانہ ٹینڈر پروسیس سے مارکیٹ ٹیسٹنگ کرائی جائے ۔ اس کے نتیجے میں قطر کی جانب سے مجوزہ آخری قیمت سے کم قیمت پر اتفاق ہوا جس سے لاکھوں ڈالر کی بچت ہوئی۔ میں نے دونوں اداروں کا ایم ڈی ہوتے ہوئے کوئی اضافی الائونس نہیں لیا۔آخر کار عدنان گیلانی کو پی ایل ایل کا ایم ڈی اور اعظم صوفی کو پی ایل ٹی ایل کا ایم ڈی تعینات کیا گیا۔