سان سلواڈور (اے پی پی) وسطی امریکہ کے ملک ایل سلواڈور کی ایک عدالت نے سابق صدر انٹونیو ساکا کو غبن اور منی لانڈرنگ کے جرم میں 10 سال قید کی سزا سنا دی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سابق صدر پر 30 کروڑ ڈالر کی منی لانڈرنگ اور کرپشن کے الزامات ثابت ہوئے ہیں۔ عدالت نے انٹونیو ساکا پر 260 ملین ڈالر جرمانہ بھی عائد کیا جو سرکاری خزانے میں جائے گا۔ انٹونیو ساکا نے رواں سال سزا کو کم کرنے کے مقصد سے اپنے اوپر لگے الزامات کو قبول کر لیا تھا۔ پولیس نے انٹونیو کو دو سال قبل اپنے بیٹے کی شادی کے موقع پر حراست میں لیا تھا۔ انٹونیو ملک کے پہلے صدر ہیں جنہیں کرپشن کے جرم میں سزا سنائی گئی ہے ۔