اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)قومی احتساب بیورو نے مریم نواز اور کیپٹن(ر)صفدر کی ضمانت منسوخی کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا۔گذشتہ روزآرٹیکل 199 کے تحت دائر درخواست میں کہاگیاکہ مریم نواز نے ضمانت کی رعایت کا غلط استعمال کیا، مریم نواز عدالت میں ہر پیشی کو سیاسی تھیٹر میں بنا دیتی ہیں،مریم نواز کارکنوں اور حامیوں سے کمرہ عدالت بھر دیتی ہیں،مریم نواز کمرہ عدالت کو پریس کلب میں تبدیل کر دیتی ہیں،مریم نواز کمرہ عدالت میں رپورٹر اور وی لاگرز کو انٹرویو دیتی ہیں،پیشی کے بعد مریم نواز پریس کانفرنس بھی کرتی ہیں،مریم نواز کی پریس کانفرنس میں ہائی رینک آفیشلز اور نیب کیخلاف کمنٹس اشتعال انگیز ہوتے ہیں،ضمانت منسوخ کی جائے ،احتساب عدالت نے مریم نواز کو سات سال قید اور دو ملین پاؤنڈ جرمانے کی سزا سنائی،6جولائی 2018 کو سنائی گئی سزا کیخلاف اپیل تاحال زیر التوا ہے ،اپیل پر گزشتہ8 سماعتوں میں5 مرتبہ اپیل کنندگان کی طرف سے التوا مانگا گیا،19 ستمبر 2018 کو سزا معطل کر کے ضمانت دینے کا فیصلہ کالعدم کیا جائے ۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کاڈویژن بنچ آج ایون فیلڈ ریفرنس اپیلوں پر سماعت کریگا۔دوسری جانب چیف جسٹس اطہرمن اللہ اور جسٹس عامرفاروق پر مشتمل ڈویژن بنچ نے سرمایہ کاری کے نام سے عوام کو لوٹنے کے کیس میں نجی کمپنی بی فور یو کمپنی کے مالک سیف الرحمن کی جائیداد ضبطگی، نیب حراست اور بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے کے خلاف درخواست میں نیب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا۔گذشتہ روز سماعت کے دوران درخواست گزار نے کہاکہ نیب آرڈیننس آگیا ،ہمارے موکل کو نیب نے غیر قانونی حراست میں رکھا ہوا ہے ،چیف جسٹس نے کہاکہ آپکے کیس میں کل ہم نے تفصیلی آرڈر جاری کیا پہلے وہ پڑھ لیں،ہم نے تفصیلی سے وجوہات جاری کی ہیں،وکیل نے کہاکہ نیب آرڈیننس کے بعد ہمارا کیس نیب کا بنتا ہی نہیں،عدالت نے کہا کہ ہم نوٹس کر دیتے ہیں لیکن آپکو ساتھ وقت بھی دیتے ہیں کہ تیاری کر کے آئیں، اگلی سماعت پر نیب آرڈیننس پر تیاری کر کے آئیں،عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت 25 اکتوبر تک ملتوی کردی۔ملزم سیف الرحمن اسوقت جسمانی ریمانڈ پر نیب کی حراست میں ہے ۔