اسلام آبادسے روزنامہ 92نیوز کی رپورٹ کے مطابق ملکی تاریخ کے ایک اور بڑے سکینڈل کی تحقیقات کے لئے اعلیٰ سطح کی 9رکنی کمیٹی نے 3200ارب روپے کے معاملات کی انکوائری شروع کر دی۔ کمیٹی سستے پلانٹس بند کرنے‘1600ارب روپے کے گردشی قرضوں ‘ مہنگی بجلی اور 15کی بجائے 70فیصد سالانہ منافع کمانے کی انکوائری کرے گی۔ بدقسمتی سے عمومی طور پر تمام اور خصوصی طور پر توانائی کے شعبے میں کرپشن نے قوم کو تباہی و بربادی تک پہنچانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی ایوبی دورکے سوا ماضی کی ہر حکومت نے اس کرپشن اور بربادی میں اضافہ کیا جس کے نتیجہ میں نہ صرف بجلی مہنگی ہوئی بلکہ قوم کو آج ملکی تاریخ کے سب سے بڑے معاشی خسارے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ماضی قریب کی دو حکومتوں کے ادوار میں توانائی کے شعبہ میں کرپشن کے میگا سکینڈل سامنے آئے جنہوں نے ملکی معیشت کی بنیادیں ہلا کر رکھ دیں۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ملک کو درپیش موجودہ معاشی حالات ماضی میں بھی ہونے والی کرپشن ہے لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ 32سو ارب روپے کے معاملات کی تحقیقات کی جائے اور جو محکمے‘ ادارے ‘کمپنیاں اور افراد اربوں روپے کی گردشی قرضوں کے ذمہ دار ہیں ان کے خلاف ملکی قانون کے مطابق مقدمات چلائے جائیں۔ ماضی کی حکومتوں نے بجلی کی قیمتوں میں کمی کی بجائے نجی بجلی گھروں کو ضرورت سے زائد ادائیگیاں بھی کی تھیں جس کی وجہ سے عوام کو مہنگی بجلی اور لوڈشیڈنگ کے عذاب کا سامنا کرنا پڑا لہٰذا یہ رقوم وصول کر کے انہیں توانائی کے شعبے کی ترقی پرخرچ کیا جائے تاکہ توانائی کے بحران پر قابو پانے میں مدد مل سکے