لاہور(انور حسین سمرائ) وزیر اعظم عمران خان کے نوجوانوں کو ایک کروڑ نوکریاں دینے کے منصوبے کو بڑا جھٹکا لگا ہے ۔ پنجاب کی تبدیلی سرکار صوبے کے مختلف شہروں میں قائم تین انڈسٹریل اسٹیٹس کو ایک سال گزرنے کے باوجود سپیشل اکنامک زون میں شامل نہ کراسکی جس کی وجہ سے ان اسٹیٹس میں مختلف صنعتیں قائم نہ ہوسکیں اور روزگار کے ہزاروں مواقع فراہم کرنا بھی مشکوک ہوگیا۔تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے اقتدار میں آنے سے قبل اعلان کیا تھا کہ اقتدار میں آتے ہی غریب عوام کو 50لاکھ سستے گھر اور ایک کروڑ نوکریاں فراہم کی جائیں گی ۔ پنجاب حکومت نے روزگار فراہمی میں حصہ ڈالنے کا اعلان کیا اور یقین دلایا کہ صوبے میں 1252ایکڑ پر قائم تین انڈسٹریل اسٹیٹس کو سپیشل اکنامک زون ڈیکلیئرڈ کرایا جائے گا تاکہ ان میں صنعتوں کے جلد از جلد قیام سے براہ راست اور بالواسطہ روزگار کی فراہمی کو یقینی بنایا جاسکے ۔ یہ انڈسٹریل اسٹیٹس تین بڑے شہروں ،جن میں 475ایکڑز پر بھلوال انڈسٹریل اسٹیٹ ، 277ایکڑز پروہاڑی انڈسٹریل اسٹیٹ اور 500ایکٹرز پر بہاولپور انڈسٹریل اسٹیٹ قائم کی گئی ہیں۔ بھلوال میں کل انڈسٹریل پلاٹوں کی تعداد 318 ، وہاڑی میں 140 اور بہاولپور میں 239 ہے جن میں صرف پانچ پلاٹوں پر انڈسٹری کی آبادکاری ہوسکی۔ پنجاب حکومت کے ایک سینئر افسر نے بتایا کہ ان انڈسٹریل اسٹیٹس کو سپیشل اکنامک زون میں شامل کرانے کا مقصد وزیر اعظم کے اعلان کردہ روزگار کے مواقعوں میں بڑی تعداد میں شراکت داری کرنا تھا۔ سپیشل اکنامک زون قرار دینے سے ان اسٹیٹس میں 10سال کے لئے ہر قسم کے ٹیکس کی چھوٹ ہونی تھی اور لگائی جانے والی مشینری کی درآمد بھی ڈیوٹی فری ہونی تھی جس کی وجہ سے صنعتکاروں کی دلچسپی میں خاصا اضافہ ہونا تھا اور فوری طور پر مختلف اقسام کی انڈسٹری بھی لگ جانی تھی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پنجاب حکومت نے وژن کے فقدان، ناقص منصوبہ بندی اور لیڈرشپ کی نااہلی کی وجہ سے ایک سال گزرنے کے باوجود قائم کی گئی انڈسٹریل اسٹیٹس کو سپیشل اکنامک زون میں شامل کروانے کی کوششیں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ان اسٹیٹس میں سے بھلوال میں بجلی، سیوریج اورسڑکیوں کی فراہمی کردی گئی ہیں جبکہ دیگر دو میں ترقیاتی کام جاری ہیں ۔محکمہ صنعت پنجاب کے ایک سینئر افسر نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ پنجاب حکومت نے ایک سال کی تاخیر کے بعد ان تینوں انڈسٹریل اسٹیٹس کو سپیشل اکنامک زون میں شامل کرنے کے لئے سفارشات چند روز قبل وفاقی حکومت کو بھجوا دی ہیں کیونکہ وفاقی بورڈ اف انوسٹمنٹ زون میں شمولیت کا حتمی فیصلہ کرتا ہے ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اگر یہ اسٹیٹس جزوی طور پر بھی آباد ہوجاتی ہیں تو ایک لاکھ تک ملازمت کے براہ راست اور بالواسطہ مواقع پیدا کئے جاسکتے ہیں۔