اسلام آباد(سپیشل رپورٹر، 92 نیوزرپورٹ ) وفاقی حکومت نے منی لانڈرنگ میں ملوث افراد کو قانون کے کٹہرے میں لانے کیلئے اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ 2010کی متعلقہ دفعات کو اینٹی ٹیررازم ایکٹ میں شامل کرنے کا فیصلہ کیاہے ۔یہ فیصلہ وزیر اعظم کی زیر صدارت اعلیٰ سطح اجلاس میں کیاگیا ۔ اجلاس میں وزیرِ خزانہ اسد عمر، وزیرِ اطلاعات فواد چودھری، وزیرِ قانون فروغ نسیم،وزیرِ مملکت داخلہ شہریار آفریدی ، معاون خصوصی افتخار درانی، ترجمان ندیم افضل چن، سیکرٹری داخلہ، ڈی جی ایف آئی اے ، چئیرمین ایف بی آر اور دیگر سینئر افسران نے شرکت کی ۔ وزیرِ قانون نے اینٹی منی لانڈرنگ قوانین کو مزید موثر بنانے کیلئے فارن ایکسچینج ریگولیشن ایکٹ1947، اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ2010اور اینٹی ٹیررازم ایکٹ1997میں مجوزہ ترامیم پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ فارن ایکسچینج ریگولیشن ایکٹ1947 میں ترمیم کے ذریعے فیرا قوانین کی خلاف ورزی کی سزا دو سال سے بڑھا کر پانچ سال کرنے کی تجویز زیر غورہے ۔مجوزہ ترمیم کے ذریعے فیرا سے متعلقہ جرائم قابل دست اندازی اور ناقابل ضمانت کیے جائیں گے ۔ فیرا کیسز کا ٹرائل چھ ماہ سے ایک سال میں مکمل کیا جائے گا۔اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ میں ترمیم کرکے منی لانڈرنگ جرائم کی سزا 10سال تک جبکہ جرمانہ بڑھا کر 50 لاکھ کیا جائے گا۔ وزیرِاعظم کوبے نامی اکاؤنٹس، امارات میں جائیداوں اور منی لانڈرنگ کے دیگر مقدمات پر پیشرفت پر بھی بریفنگ دی گئی۔ وزیر اعظم سے اسلام آباد سمٹ میں شرکت کرنے والے 25 مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے 60 سے زیادہ مندوبین نے بھی ملاقات کی۔ اس موقع پر مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد ، وزیر اطلاعات فواد چودھری، چیئرمین سرمایہ کاری بورڈ ہارون شریف، معاونین خصوصی نعیم الحق اور افتخار درانی شامل بھی موجود تھے ۔ وزیر اعظم نے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا آج کا پاکستان یکسر تبدیل ہو چکا ہے ۔ نیا پاکستان پرامن اور ابھرتے ہوئے سماجی اور معاشی مواقعوں سے بھرپور پاکستان ہے ۔معروف بین الاقوامی سرمایہ کار آج پاکستان میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں جو حکومت کی سرمایہ کار دوست پالیسیوں اور کاروبار کرنے میں آسانیاں اورسہولیات میں بہتری کا مظہر ہے ۔ مختلف ممالک سے مندوبین کا اسلام آباد سمٹ میں شرکت اور اسلام آباد میں اس کانفرنس کا انعقاد اس بات کا مظہر ہے کہ بین الاقوامی سرمایہ کاروں کا پاکستان پر اعتماد نہ صرف بحال ہو چکا ہے بلکہ وہ پاکستان کے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کیلئے راغب ہو رہے ہیں۔ وزیر اعظم سے سکھ اور ہندو کمیونٹی کے نمائندوں نے ملاقات کی۔ ملاقات میں ڈاکٹر رمیش کمار ، سردار منندر پال سنگھ ، سردار تارا سنگھ اور روی کمار شامل تھے ۔ وزیر مذہبی امور نور الحق قادری ، معاون خصوصی نعیم الحق بھی ملاقات میں موجود تھے ۔ وزیر اعظم آفس سے جاری اعلامیہ کے مطابق ملاقات کا مقصد وزیراعظم کے اقلیتی برادری ، متروکہ املاک کے حوالے سے وژن پر سکھ اور ہندو کمیونٹی کے نمائندوں کو اعتماد میں لینا تھا ۔ وزیراعظم نے سکھ اور ہندو کمیونٹی کے نمائندوں کو حکومتی فیصلوں سے آگاہ کیا اور ان سے مختلف تجاویز پر گفتگو کی ۔وزیراعظم نے کہا اسلام اقلیتوں کی عبادت گاہوں کی حفاظت کی مکمل ضمانت دیتا ہے ۔ اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ اور فلاح و بہبود اولین ترجیحات میں شامل ہے ۔ متروکہ وقف املاک بورڈ میں کرپشن کے سدباب کیلئے ٹاسک فورس تشکیل دی جا رہی ہے جو متروکہ وقف املاک بورڈ کو ری اسٹرکچر کرنے کیلئے حکومت کو سفارشات دے گی۔ متروکہ وقف املاک کے پالیسی معاملات بورڈ آف مینجمنٹ کے سپرد کیے جائیں گے جس میں سکھ اور ہندو کمیونٹی کے نمائندے بھی شا مل ہونگے ۔ سیکرٹری مذہبی امور نے اس حوالے سے بریفنگ دی ۔سکھ اور ہندوکمیونٹی کے نمائندوں نے وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا ۔ وزیراعظم سے وفاقی وزیراطلاعات فواد چودھری نے ملاقات کی۔ملاقات میں وزارت اطلاعات اورسیاسی امورپرتبادلہ خیال کیاگیا۔ وزیراعظم سے اقتصادی رابطہ آرگنازئزیشن کے سیکرٹری جنرل نے بھی ملاقات کی۔ملاقات میں اقتصادی ترقی سے متعلق امورپربات چیت کی گئی۔وزیراعظم نے نیشنل ٹورازم کوارڈی نیشن بورڈاور9ورکنگ گروپس کی منظوری دیدی۔کابینہ ڈویژن نے نوٹیفکیشن جاری کردیا۔ وزیرِ اعظم کے معاون خصوصی ذوالفقارعباس بخاری بورڈکے قائم مقام چیئرمین ہوں گے ۔ وزیر اعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق بورڈ چیئرمین سرمایہ کاری بورڈ، سیکرٹری بین الصوبائی رابطہ ، پنجاب، سندھ،خیبرپختونخوا، بلوچستان، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے محکمہ سیاحت کے وزار یا سیکرٹریز ، چیئرمین پاکستان ایسوسی ایشن آف ٹور آپریٹرز، چیئرمین ٹریول ایجنٹس ایسوسی ایشن ،چیئرمین پاکستان ہوٹل ایسوسی ایشن پر مشتمل ہوگا۔ پرائیوٹ ممبران میں کامران لاشاری، علی اصغر، آفتاب الرحمان رانا، سراج الملک، ثمینہ بیگ،بہرام آواری، محمد ایوب بلوچ ، یاسر رفیق اور ذوالفقار علی شامل ہیں۔ جوائنٹ سیکرٹری کابینہ ڈویژن بورڈ کے سیکرٹری کے فرائض سر انجام دیں گے ۔بورڈ صوبائی، قومی اورعالمی اداروں سے کوارڈی نیشن کے فرائض سرانجام دے گا۔ملک کی سیاحتی استعدادکی مارکیٹنگ اور پروموشن بھی بورڈکے فرائض میں شامل ہو گا۔