BN

ای سی ایل کا معاملہ طے نہ ہوا،ایک دوسرے پر ذمہ داری؛نوازشریف لندن نہ جاسکے ،کل ایئرایمبولینس بھی بک

منگل 12 نومبر 2019ء





اسلام آباد،لاہور(خبر نگار خصوصی، سپیشل رپورٹر،نامہ نگار،سٹاف رپورٹر ،جنرل رپورٹر ،92 نیوزرپورٹ،نیٹ نیوز، ایجنسیاں)سابق وزیرِاعظم نواز شریف لندن نہ جاسکے ،کل کیلئے ایئر ایمبولینس بک کرالی گئی جبکہ ای سی ایل کا معاملہ طے نہ ہوا، حکومت اور نیب نے ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈال دی ۔ نیب نے سابق وزیراعظم نوازشریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے سے متعلق وزارت داخلہ کو جواب بھیج دیا۔نیب نے نوازشریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے سے متعلق وزارت داخلہ کو جواب بھیج دیا جس میں کہا گیا کہ میڈیکل رپورٹس کا جائزہ لے لیا، وفاقی حکومت کو سفارش کرتے ہیں کہ صوابدیدی اختیار کے تحت نوازشریف کی درخواست پر فیصلہ خود کرے ، مختلف کیسز میں وفاقی حکومت پہلے بھی صوابدیدی اختیار استعمال کرچکی ہے ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ وزارت داخلہ نے یہ معاملہ ذیلی کمیٹی کے سپرد کردیا، ذیلی کمیٹی کے سربراہ وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم ہیں جو درخواست کا جائزہ لینے کے بعد نام ای سی ایل سے نکالنے کا فیصلہ کریں گے ۔ ذیلی کمیٹی کا اجلاس آج ہوگا اور کمیٹی اپنی سفارش وفاقی کابینہ کے سامنے رکھے گی۔جاتی عمرہ میں گزشتہ چھ روز سے زیر علاج سابق وزیراعظم نواز شریف کی صحت بدستور خراب ہے ۔ جہاں نواز شریف کے پلیٹ لیٹس کم ہونے کے ساتھ ساتھ ان کے جسم پر خون کے دھبے پڑنا شروع ہوگئے ۔علاوہ ازیں وزیرصحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد نے نواز شریف کے علاج معالجے کے لیے قائم سرکاری میڈیکل بورڈ کی دوبارہ تیارکردہ رپورٹ جس میں ان کے علاج بیرون ملک کرانے کی تجویز دی گئی تھی کو نامکمل قرار دے دیا ہے ۔میڈیکل بورڈ نے نواز شریف کے مجوزہ ٹیسٹ ، ان سے ہونے والے مشکلات اور اس کا علاج پر مبنی جامع رپورٹ نہیں دی جس پر میڈیکل بورڈ سے اس حوالے سے تفیصلی رپورٹ طلب کی گئی ہے ۔ان خیالات کا اظہارصوبائی وزیر نے گزشتہ روز ڈی جی پی آر ہیڈ آفس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ ڈاکٹریاسمین راشد نے کہا نواز شریف نے گھر جانے کے بعد بیرون ملک علاج معالجہ کی اجازت کے لئے وزارت داخلہ کو درخواست دی اور وزارت داخلہ نے باقاعدہ مراسلہ کے ذریعے ہم سے نواز شریف کی صحت بارے پوچھا تھا۔اس سلسلہ میں اتوار کے روز سرکاری میڈیکل بورڈ کا دوبارہ اجلاس ہوا جس میں میڈیکل بورڈ ممبران نواز شریف کو ملک میں کچھ ٹیسٹ دستیاب نہ ہونے پر بیرون ملک بھیجنے کی سفارش کی ہے ۔ میڈیکل بورڈ نے ایک بار پھر نواز شریف کی صحت کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے حکومت کو رپورٹ ارسال کی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نواز شریف کے پلیٹ لیٹس کم ہونے کا عارضہ سنگین صورت اختیار کر رہا ہے جو علاج میں تاخیر کے باعث جاں لیوا ہوسکتا ہے ۔ بورڈ نے واضح کر دیا ہے کہ نواز شریف کا علاج ملک میں نہیں ہوسکتا یہ سہولت صرف بیرون ملک دستیاب ہے ۔صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے اس رپورٹ کو نا مکمل قرار دیا تھا جس کے بعد گزشتہ روز پیرکو بھی سرکاری میڈیکل بورڈ کا اجلاس ہوا۔سرکاری میڈیکل بورڈ نے نواز شریف کی صحت سے متعلق تیسری رپورٹ حکومت کو ارسال کر دی ۔ جس کے مطابق نواز شریف کو جینٹک سٹڈی کروانے کے لیے بیرون ملک جانا ہو گا۔ نواز شریف کے علاج کے لیے جینٹک ٹیسٹ پاکستان میں نہیں ہو سکتے ۔ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ ہارلے کلینک لندن میں نواز شریف کی ڈاکٹروں کے ساتھ چیک ا پ کا وقت منسوخ ہو گیا کیونکہ ای سی ایل میں نام ہونے کے باعث نواز شریف بیرون ملک سفر نہ کر سکے ۔مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب نے اپنے ٹویٹس اور بیان میں کہا کہ ڈاکٹرز محمد نواز شریف کے پلیٹ لیٹس کی تعداد قابل سفر سطح پر لانے کے لئے کل انہیں طبی طور پر تیار کریں گے ۔محمد نواز شریف کو بیرون ملک لیجانے کے لئے ائیر ایمبولینس کا انتظام کرلیاگیا جو بدھ کو پہنچے گی ۔ای سی ایل سے نام نکالنے کے عمل میں تاخیر ڈاکٹرز کے بورڈ کی تجاویز کے منافی ہے ۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ ان کے علاج کے لئے ایک ایک لمحہ قیمتی ہے ، کسی بھی حادثہ کی صورت میں نواز شریف کو بیرون ملک منتقل کرنا ناممکن ہوجائے گا۔ سابق وزیراعظم کا ای سی ایل سے نام نہ نکلنا پریشان کن ہے ۔ کوئی بھی اطلاع پارٹی ترجمان اور ڈاکٹر عدنان جاری کرینگے ۔نوازشریف کا نام ای سی ایل سے خارج ہونے کی صورت میں کل لندن روانہ ہونے کا امکان ہے ،نوازشریف ائیرایمبولینس یا کمرشل پرواز کے ذریعے لندن پہنچیں گے جہاں ہارلے کلینک سے ابتدائی علاج کروائیں گے ۔ بھائی شہباز شریف اورذاتی معالج ڈاکٹر عدنان بھی ساتھ جائیں گے ۔علاوہ ازیں نجی ائیرلائن سے روانگی کے لئے آج او رکل کیلئے بکنگ بھی کرائی گئی ہے لیکن امکان ہے وہ ائیرایمبولینس کا استعمال کریں گے ۔

 

 



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں