سی ٹی او لاہور منتظر مہدی کے حکم پر ٹریفک پولیس نے ای چالان نادہندگان کے خلاف کارروائیاں تیز کردی ہیں۔ کسی بھی ملک کی سڑکیں، ٹریفک ،اس معاشرے کی اخلاقی تربیت اور قانون کی پاسداری کی عکاس ہوتی ہیں۔ ہمارے ہاں ٹریفک قوانین سے لاعلمی اور انتظامی غفلت کے باعث بے ہنگم رش اور ٹریفک جام معمول بن چکا ہے۔ ٹریفک سگنل خراب ہونے کی صورت میں سڑکوں کا بلاک ہونا تو عام سی بات ہے۔ یہاں تو ٹریفک سارجنٹ کی موجودگی میں سگنل کی خلاف ورزی کی جاتی ہے۔ بے حسی اور بے خوفی کا یہ عالم ہے کہ سڑک پر آ کر ٹریفک وارڈن کسی کے چالان میں مصروف ہو تو درجنوں گاڑیاں سگنل کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نکل جاتی ہیں۔ سابق حکومت نے ٹریفک کی روانی بحال رکھنے کے لیے سیف سٹی پراجیکٹ کے تحت سڑکوں پر کیمرے لگوائے اور سگنل کی خلاف ورزی پر ای چالان گھر بھجوانے کا اہتمام کیاتھا۔ ٹریفک پولیس نے لاکھوں ای چالان کئے تو انکشاف ہوا کہ کثیر تعداد میں گاڑیاں اصل مالکان کے نام ٹرانسفر نہیں ہوتیں یا پھر گھر کا پتہ درست نہیں۔ ماضی میں سو سے زائد چالان والے رکشے کا پکڑا جانا اس کی مثال ہے۔ اب سی ٹی او نے نادہندگان کے خلاف کارروائی تیز کرنے کا حکم دیا ہے۔ بہتر ہوگا جو گاڑیاں پکڑی جا رہی ہیں ان کے اصل مالکان کے نام ٹرانسفر ہونے اور درست ایڈریس کے اندراج کو یقینی بنایا جائے تاکہ آئندہ چالان گھروں پر بھجوائے جا سکیں اور قانون شکنی کا رجحان ختم ہو سکے۔