ایف آئی اے نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن میں اربوں روپے کی مالی بے ضابطگیوں پر 49 انکوائریوں کو جلد از جلد مکمل کرنے کیلئے 5 اسسٹنٹ ڈائریکٹرز کی نگرانی میں 2 اسسٹنٹ ڈائریکٹر 7 انسپکٹروں پر مشتمل کمیٹیاں تشکیل دے دی ہیں۔ پی آئی اے ایک ایسا ادارہ تھا جس سے کئی بین الاقوامی فضائی کمپنیوں نے جنم لیا ہے۔ آج یہ کمپنیاں دنیا کی کامیاب ترین کمپنیاں بن چکی ہیں جبکہ پی آئی اے ہر گزرتے دن کے ساتھ ساتھ تنزلی کی جانب گامزن ہے۔ اس ادارے میں سیاسی بھرتیوں نے ملازمین کے بوجھ میں کئی گنا اضافہ کر دیا۔ 2010ء سے 2018ء کے دوران پی آئی اے کو مالی طور پر بھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ اس لئے اس دورانیئے کی فی الفور تحقیق کرکے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کرنی چاہئے۔ اس وقت آڈٹ رپورٹ کی روشنی میں 49 انکوائریاں ہو رہی ہیں۔ اگر 5 کمیٹیاں ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان 49 انکوائریوں پر کام کریں تو چند ہفتوں میں دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی سامنے آ سکتا ہے لیکن اگر ان کمیٹیوں نے ماضی کی طرح نشستند، گفتند اور برخاستند سے کام لیا تو پھر چاہے جتنی مرضی کمیٹیاں تشکیل دے لیں کچھ بھی نہیں بنے گا۔ موجودہ حکومت پی آئی اے کو اپنے پائوں پر کھڑا کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے۔ اگر وہ چیک اینڈ بیلنس رکھے تو نہ صرف ان کمیٹیوں کی رپورٹ بروقت سامنے آ سکے گی بلکہ پی آئی اے اپنے پائوں پر بھی کھڑی ہو جائے گی۔