اسلام آباد (خبرنگار ) سپریم کورٹ نے سندھ کے علاقے میہڑ میں تہرے قتل کا مقدمہ منتقل کرنے سے متعلق کیس میں ملزموں کی درخواست پر فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیاہے جوعیدکے بعدسنایا جائے گا۔ پراسیکیوٹر جنرل سندھ نے مقدمہ سیشن کورٹ میں چلانے کی حمایت کر دی۔ جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں 3رکنی بنچ نے سماعت کی۔ ام رباب چانڈیو کے وکیل فیصل صدیقی نے کراچی سے ویڈیو لنک کے ذریعے دلائل دیتے ہوئے کہا تہرے قتل کا کیس سیاسی دہشتگردی کا کیس ہے کیونکہ دونوں فریق سیاسی حریف ہیں۔ قتل کے ان ملزموں کی چھوڑ دینا ان کے طاقتور ہونے کا ثبوت ہے ۔ملزمان نے ٹرائل کورٹ میں 8 مختلف ایف آئی آرز پیش کیں اور ثابت کرنے کی کوشش کی کہ یہ کیس دہشتگردی نہیں ذاتی دشمنی کا ہے ۔ جسٹس یحییٰ آفریدی نے وکیل فیصل صدیقی سے استفسار کیا یہ اے کلاس اور بی کلاس ایف آئی آر کیا ہوتی ہے ؟ وکیل نے کہا یہ سندھ میں ایک قانون ہے جس کے مطابق اگر وقوعہ ہوا اور ملزمان اس سے انکاری ہوں، بی کلاس ایف آئی آر وہ ہوتی ہے جس میں وقوعہ ہوا ہی نہ ہو۔ بی کلاس ایف آئی آر کا تعین عدالت کرتی ہے ۔ جسٹس یحییٰ آفریدی نے سوال اٹھایا کہ پولنگ والے دن جھگڑا ہو جائے تو کیا وہ سیاسی دہشتگردی ہوگی؟ ذاتی دشمنی اور سیاسی دہشتگردی میں فرق کیسے ہوگا؟دورخواست گزارکے وکیل لطیف کھوسہ نے کہا موجودہ کیس میں تو ایک خاندان کے دو بڑے آپس میں لڑ رہے ہیں یہ دہشتگردی کیسے ہو سکتی ہے ؟ یہ مقدمہ 9 بی یا 9 سی کا بنتا ہی نہیں۔کیس کا چالان انسداد دہشتگری عدالت کرے اور فیصلہ سیشن کورٹ کرے تو یہ عدالتی نظام کے ساتھ مذاق ہوگا۔