نیویارک، اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک، این این آئی)عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے ریجنل اکنامک آؤٹ لُک رپورٹ جاری کردی ہے جس میں آئندہ سال پاکستان سمیت خطے کی مجموعی پیداوار 1.8 فیصد رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے ۔آئی ایم ایف کے مطابق کورونا وائرس کے باعث معاشی غیریقینی صورت حال کا سامنا ہے ۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2021ء میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ منفی 4.6 فیصد تک رہنے کی توقع ہے اور مہنگائی کی شرح 9.8 فیصد تک رہنے کا امکان ہے ۔عالمی مالیاتی فنڈ کے مطابق پاکستان نے لاک ڈاؤن کو نرم کیا ہے ، مانیٹری پالیسی کے ذریعے شرح سود میں بھی کمی کی گئی ہے ۔آئی ایم ایف نے کہا کہ پاکستان میں کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے ٹیکس وصولیوں کو معطل کیا گیا،جب کہ کوروناوائرس پر قابو پانے کے لیے گیس اور بجلی بلوں کی وصولیاں روکی گئی ہیں،پاکستان کو تاحال کورونا کے نقصانات کا سامنا ہے ، کورونا کے دوران پاکستان کو فنڈز فراہم کیے ، کورونا کی وجہ سے فنڈز کی ترجیحات تبدیل ہوئیں۔ رپورٹ کے مطابق کورونا کی وجہ سے پاکستان میں محاصل متاثر ہوئے ، لاک ڈاؤن کی وجہ سے متاثر افراد کو کیش گرانٹس دینا پڑیں، چھوٹے کاروبار کو بحال کرنے کے لئے رعایتیں دینا پڑیں۔ کورونا کے دوران پاکستان میں ڈیجیٹل ٹرانسفر بڑھا۔رپورٹ کے مطابق پاکستان نے کیش گرانٹس بھی ڈیجیٹل ٹرانسفر کیں۔