لاہور سے روزنامہ92 نیوز کی رپورٹ کے مطابق پنجاب کوآپریٹو بورڈ فار لیکویڈیشن نے بوگس رجسٹریاں اور جعلی انتقال کروانے والے بااثر افراد کے 31 کیسز اینٹی کرپشن اور 26 کیسز نیب لاہور کو ریفر کر دیئے ہیں جبکہ لاہور، راولپنڈی، پسرور اور گوجرانوالہ میں 14 ارب روپے مالیت کی جائیداد کا قبضہ لے لیا گیا ہے۔ یہ اعتراف کرنے میں کوئی قباحت نہیں ہونی چاہئے کہ صوبے کی تاریخ میں پہلی بار ایسے جعل سازوں کے خلاف کارروائی کی گئی ہے اور اسے یقیناً پاکستان کے بدلتے معاشرے کی ایک نشانی قرار دیا جا سکتا ہے کہ بوگس رجسٹریوں اور جعلی انتقال ناموں سے بعض بااثر افراد نے جو اودھم مچا رکھا تھا، اس پر بھرپور ہاتھ ڈالا گیا ہے۔ یہ بظاہر پنجاب کوآپریٹو بورڈ فار لیکویڈیشن میں صوبائی حکومت کی طرف سے کی جانے والی انتظامی تبدیلی کی وجہ سے ہی ممکن ہوا ہے۔ صوبے میں گزشتہ کئی عشروں سے بوگس رجسٹریوں اور جعلی انتقال ناموں کے ذریعے زمینوں کی خریدو فروخت کا کاروبار بڑے پیمانے پر جا رہی ہے۔ اس کا تقاضا ہے کہ اس آپریشن کو پنجاب کے دیگر شہروں تک پھیلایا جائے اور اربوں روپے کی املاک پر جن بااثر جعل سازوں نے غیر قانونی قبضہ کر رکھا ہے ان سے یہ املاک بازیاب کروا کر انہیں گرفتارکیا جائے اور انہیں ایسی عبرتناک سزائیں دی جائیں کہ آئندہ کسی کو بوگس رجسٹریوں اور جعلی انتقال ناموں کے ذریعے سرکاری املاک پر قبضہ کرنے کی جرأت نہ ہو سکے۔