نعمت اللہ خان ایڈووکیٹ سابق میئر کراچی سے ہماری پرانی نیاز مندی تھی۔ کچھ مدت پہلے انہیں مانچسٹر ایئر پورٹ پر دیکھا۔ میں قطار میں پیچھے تھا وہ مجھ سے آگے وہ تیز تیز قدم اٹھاتے جا رہے تھے۔ غالباً مانچسٹر ہی ان کی منزل تھا جبکہ میں ٹرانزٹ مسافر تھا۔ لپک کر ان کی طرف بڑھا مگر وہ مسافروں کے ہجوم میں آنکھوں سے اوجھل ہو گئے۔ بروز منگل انہوں نے ساری دنیا کی آنکھوں سے اوجھل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔ تاہم خدمت خلق کے لئے ان کے سینکڑوں منصوبے انہیں کبھی آنکھوں سے اوجھل نہ ہونے دیں گے اور نہ انہیں دلوں سے بھلایا جا سکے گا۔آج کل کامیاب لوگوں کی داستانوں کا بہت چرچا ہے۔ نعمت اللہ خان کی کہانی نرالی کامیابی کی حیرتناک داستان ہے۔ نعمت اللہ خان نے اجمیر شریف سے 1946ء میں میٹرک کا امتحان امتیازی شان سے پاس کیا۔ 16برس کی عمر میں وہ اجمیر میں مسلم لیگ کے نیشنل گارڈز کے صدر تھے۔ وہ جلسے اور جلوسوں میں شرکت کرتے اور پاکستان کے حق میں نعرے بلند کرتے ان کے والد بچپن میں ہی فوت ہو گئے تھے۔ قیام پاکستان کے فوراً بعد وہ اگست 1947ء کے آواخر میں اپنے خوابوں کی سرزمین پاکستان آ گئے۔ پہلی چند راتیں انہوں نے کراچی کے فٹ پاتھ پر سو کر گزاریں۔باقی اہل خاندان کی آمد پر مزار قائد کے قریب ایک جھونپڑی میں رہنے لگے۔ کوئی سوچ سکتا ہے کہ یہ بے آسرا جھونپڑی کا مکین ایک روز کراچی کا میئر بنے گا اور خدمت خلق کی ایک لازوال اور بے مثال داستان رقم کرے گا۔ کراچی اس کا محسن اور وہ کراچی کا محسن تھا۔ نعمت اللہ خان نے نوعمری میں اپنی اور اپنے خاندان کی کفالت کے لئے ایک مستقل اور دو جزوقتی ملازمتیں کیں۔اتنی جان لیوا محنت کے باوجود وہ اپنی اعلیٰ تعلیم سے غافل نہیں رہے۔ آنکھ طائر کی نشمین پر رہی پرواز میں وہ بالعموم ٹرک پر درجنوں مزدوروں اور کلرکوں کے ساتھ ٹھس ٹھسا کر کام پر جاتا اور اس دوران بھی وہ محو مطالعہ رہتا۔انہیں نامساعد حالات میں نعمت اللہ خاں نے پہلے بی اے پھر ایم اے اور ایل ایل بی کر لیا۔ اس نے انکم ٹیکس لاء میں کمال حاصل کیا۔1958ء میں وہ شاہراہ ترقی پر گامزن ہو گیا۔ تھوڑے ہی عرصے میں خان صاحب کا شمار سندھ ہائی کورٹ کے نامور وکلاء میں ہونے لگا۔ نعمت اللہ خان نے جماعت کی رکنیت کا حلف 1974ء میں پہلے خانہ کعبہ کے سامنے حرم مکی اور پھر مسجد نبوی مدینہ منورہ میں اٹھایا۔جماعت اسلامی کے اس وقت کے نائب امیر پروفیسر غفور احمد نے ان سے حلف لیا۔ دس برس تک جماعت اسلامی کراچی کے امیر رہے اور جماعت ہی کے پلیٹ فارم سے سندھ صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور پھر 2001ء میں وہ جماعت کی طرف سے میئر کراچی منتخب ہوئے۔ بطور میئر نعمت اللہ خان نے کراچی کے ترقیاتی بجٹ کو 6ارب روپے سے 43ارب پر پہنچا دیا۔نعمت اللہ خان نے 4سالوں کے مختصر عرصے میں دیانت ‘امانت‘ اعلیٰ صلاحیت اور انتھک محنت سے کراچی کی ٹرانسپورٹ کا مسئلہ حل کرنے کے لئے ایل این جی سے چلنے والی 500بسیں 100ملین گیلن اضافی پانی‘18فلائی اوورز ‘6طویل انڈر پاسسز اور بہت سی سگنل فری سڑکیں 32نئے کالجز اور کراچی کے لئے امراض قلب کا جدید ترین ہسپتال فراہم کیا۔ اس وقت کے صدر جنرل پرویز مشرف کو آغاز میں جماعت اسلامی کے میئر کے بارے میں کئی تحفظات تھے، انہوں نے نعمت اللہ خان کے ساتھ کراچی کا خفیہ دورہ کیا۔ جنرل پرویز مشرف ان کے زبردست ویژن‘بہترین ہوم ورک اور مستقبل کے منصوبوں سے بہت خوش ہوئے۔ اس وقت ایک ایشیائی سروے کے مطابق ایشیا کے چار بہترین میئرز نامزد کئے گئے تھے جن میں استنبول کے میئر طیب رجب اردوان ‘تہران کے میئر احمدی نژاد‘ کراچی کے میئر نعمت اللہ خان اور شنگھائی کے میئر شامل تھے۔اسی طرح ایک سروے کے مطابق نعمت اللہ خان کو دنیا کے دس بہترین میئرز میں بھی شمار کیا گیا۔ اس زمانے میں ایک پاکستان انگریزی اخبار کے ممتاز کالم نگار اردشیر کائوس جی تقریباً ہر ہفتے پہاڑ کی کھوہ اور سمندر کی تہہ سے حکمرانوں‘سیاست دانوں اور تاجروں کی کرپشن کی داستانیں ڈھونڈ لاتے تھے اور انہیں قارئین تک پہنچاتے تھے۔تاہم کائوس جی نے نعمت اللہ خان کو زبردست خراج تحسین پیش کیا اور انہیں کراچی کے لئے نعمت قرار دیا تھا۔ 2005ء میں نعمت اللہ خان میئر شپ کی شاندار اننگز کھیل کر فارغ ہوئے تو امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمد نے انہیں الخدمت کا صدر مقرر کر دیا۔ سندھ کے علاقے تھرپارکر میں برسوں سے بہو بیٹیاں میلوں سے پانی بھر کر لاتی تھیں۔ خان صاحب نے وہاں 2000کنویں اور ہینڈ پمپ لگوائے اور کئی ہیلتھ یونٹ قائم کروائے۔انہوں نے کراچی سمیت پاکستان کے مختلف شہروں میں سینکڑوں واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ لگوائے۔خان صاحب کے کارہائے نمایاں کی وسعت کالم کی تنگ دامانی میں نہیں سما سکتی۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے۔ یہاں ایک سوال پوچھنے کو جی چاہتا ہے کہ جب جماعت اسلامی کا نعمت اللہ خان ایڈووکیٹ یا عبدالستار افغانی یا سینیٹر سراج الحق جیسا کوئی شخص منظر عام پر آتا ہے تو قوم ان کی دیانت و امانت کے گن گاتی ہے مگر عام انتخابات میں انہیں ووٹ کیوں نہیں دیتی؟جماعت کے اکابر بھی اس بات کا تجربہ کریں۔