معزز قارئین!۔ کل (13 ستمبر ، 2 محرم اُلحرام) کو پاکپتن شریف میں چشتیہ سلسلہ کے ولی اور پنجابی زبان کے پہلے شاعر ، بابا فرید اُلدّین مسعود شکر گنج  ؒ (1175ء ۔1266ء ) کے 776 ویں سالانہ عُرس کی تقریبات کا آٹھواں روز تھا اور شور کوٹ میں سلسلہ قادریہ کے ولی اورپنجابی کے نامور شاعر حضرت سُلطان باہُوؒ کی تقریبات بھی شروع ہوگئی تھیں ، جن میں اندرون اور بیرون ملک سے ہزاروں زائرین شرکت کر رہے ہیں ۔ کتنے خوش قسمت ہیں وہ لوگ جنہوں نے اِن اولیاء اور شاعروں کے عُرس کی تقریبات کا اہتمام کِیا؟۔ 

بابا فرید شکر گنج  ؒ کی زندگی کا خاص پہلو یہ ہے کہ آپ ؒہندوستان میں خاندانِ غلاماں ؔ کے بادشاہ سُلطان غیاث اُلدّین بلبن کے داماد تھے لیکن آپ ؒ نے سُسر بادشاہ سے کسی قسم کی مراعات حاصل نہیں کی تھیں؟۔ سابق صدر آصف علی زرداری نے اپنے سُسر ( جناب ذوالفقار علی بھٹو ) کے نام پر اور کیپٹن (ر) محمد صفدر نے اپنے سُسر (میاں نواز شریف ) کے نام پر کیا کیا کِیا ؟ اور کیوں کِیا؟۔ بابا جی ؒ کی صوفیانہ شاعری میں تو زندگی کے ہر شعبے کا احاطہ کِیا گیا ہے ۔ 11 ستمبر کو  سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کی اہلیہ بیگم کلثوم نواز کا انتقال ہُوا تو مجھے بابا جی ؒ کے یہ دوہے یاد آئے کہ …

جِت دِہاڑے دھن ورِی ساہے لئے لِکھائِ !

مَلک جو کنِّیں سُنیدا مُونہہ دِکھا لے آئِ !

…O…

جِند نمانی کڈِ ھَیے ہڈّاں کُوں کڑ کا ء ِ!

ساہے لِکھے نہ چلنی جِند و کُوں سمجھاء ِ !

…O…

جِند وَوہٹی مَرن ور لَے جا سی پر نائِ!

آپن ہتّھِیں جول کے کَیں گل لگے دھا ئِ !

یعنی۔ ’’ جب دُلہن بیاہی گئی تو اُس کی رُخصتی کی تاریخ مقرر تھی کہ کب ملک اُلموت (اُس کا دُلہا ) اُسے لے جائے، بے چاری زندگی ہڈیوں کو توڑ کے نِکل جاتی ہے تو اُسے کون سمجھائے کہ اِس پر کسی کا بس نہیں چلتا۔ کوئی اُسے اپنے ہاتھوں سے رُخصت کر کے کِس کے گلے لگ کر روئے!‘‘۔ جب کسی بادشاہ ( حکمران ) یا بڑے شخص کا کوئی پیارا دُنیا سے رُخصت ہوتا ہے تو اُسے بہت دُکھ ہوتا ہے ۔ ایسے لوگوں کے لئے بابا فرید شکر گنج  ؒ نے بہت پہلے ہدایت کردِی تھی کہ …

فریدا! جے تُوں عقل لطیف کالے لِکھ نہ لیکھ!

آپنے گریوان میں سِر نِیواں کر دیکھ !

یعنی۔ ’’ اے فرید !۔ اگر تو باریک بین عقل رکھتا ہے تو’’ سیاہ لیکھ‘‘ ( تحریریں احکامات ) نہ لکھ بلکہ اپنے گریبان میں سر نیچا کر کے دیکھ ‘‘۔ معزز قارئین!۔ میرے نزدیک بابا جی ؒنے تو بہت پہلے ریاست ِ پاکستان کے چار ستونوں "Four Pillers of the State" ۔ -1  پارلیمنٹ (Legislature) 2 حکومت (Executive) ۔ -3 جج صاحبان ( Judiciary) اور -4 اخبارات اور نشریاتی اداروں( Media) ۔ کو ہدایت کردِی تھی کہ ’’ وہ کالے لیکھ لکھنے سے اجتناب کریں!‘‘۔ پھر وہی ہُوا جو سب آپ کے سامنے ہے؟۔ 

بھینسیں اور اُن کا دودھ ؟ 

پرسوں ( 12 ستمبر ، یکم محرم اُلحرام)کو قومی اخبارات میں خبر شائع ہُوئی کہ ’’ وزیراعظم کے مُشیر برائے سیاسی امور جناب نعیم اُلحق نے وزیراعظم ہائوس میں موجود 8 بھینسوں اور چار ہیلی کاپٹرز کو نیلام کرنے کا فیصلہ کِیا ہے !‘‘۔ اِس بات کی بھی تحقیق کی جائے کہ ’’ وزیراعظم ہائوس میں بھینسیں رکھنے اور اُن کا دودھ پینے کا آغاز کِس دَور میں ہُواتھا؟‘‘ ۔ بابا فرید شکر گنج  ؒ نے تو، پہلے ہی کہہ دِیا تھا کہ …

فریدا سکّر ، کھنڈ نِوات گُڑ مَاکھّیوں ماجھا دُدّھ!

سبھّے وَستو مٹّھیاں رب ّ نہ پُجّن تُدھ!

یعنی۔ ’’ اے فرید ؒ !۔ شکر ، چینی، مصری، شہد اور بھینس کا دودھ ، سب چیزیں شیریں اور لذیذ ہیں لیکن، یہ سب چیزیں تمہیں اپنے ربّ کے قریب نہیں لے جا سکتیں‘‘۔ معزز قارئین!۔ میرے دوست ’’ شاعرِ سیاست‘‘ نے بابا فرید شکر گنج  ؒ کے افکار و نظریات کے مطابق حالاتِ حاضرہ پر بابا جی کی ایک ملنگنی  ؔ کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہُوئے ۔’’ شکّر گنج جیؒ !۔ تُہاڈی ملنگنی ، شکّر کِیویں وَنّڈے؟‘‘ ۔ کے عنوان سے جو نظم لکھی تھی اُس کے دو بند یوںہیں …

قومی خزانہ لُٹّ کے لَے گئے اُستاداں دے چنّڈے!

دو دِن ماہیؔ پھیرا پائوندا سَیچر ڈے تے سنّڈے!

گھر وِچ بُک بھر آٹا کوئی نہ کِیویں پکاواں منّڈے!

شکّر گنج جیؒ !۔ تُہاڈی ملنگنی شکّر کِیویں وَنّڈے؟

…O…

مار دے نیں یم راج ؔدے چیلے خُود کُش حملہ آور!


دُوجے پاسے ڈاکو پُلسئیے اِک دُوجے تو ں جا بر!

عِزّت ،جان بچاون لئی مَیں جاواں کیہڑی کھنّڈے؟

شکّر گنج جیؒ !۔ تُہاڈی ملنگنی شکّر کِیویں وَنّڈے؟

حضرت سُلطان باہُو ؒ

معزز قارئین!۔ یوں تو ، حضرت سُلطان باہُوؒ (1630ء ۔ 1691ئ) فارسی کے بھی بلند پایہ شاعر تھے لیکن، اُن کا پنجابی کلام زیادہ مقبول ہُوا ۔ سانحہ کربلا پر اظہار خیال کرتے ہُوئے حضرت سُلطان باہُوؒ نے کہا کہ …

جے کردِین عِلم وِچ ہوندا !

 تاں سِر نیزے کیوں چڑھدے ہُو!

…O…

اٹّھاراں ہزار جے عالم آہا !

 اوہ اگے حُسینؑ دے مَردے ہُو!

…O…

جو کُجھ ملاحظہ سَرورؐ دا کر دے!

 تاں خیمے تمبو کیوں سَڑدے ہُو!

…O…

پر صادق دِین تِنہاں دے باہُو !

 جو سرِ قُربانی کردے ہُو!

یعنی’’ اگر دِین اسلام ( محض) عِلم میں ہوتا تو پھر ( میدانِ کربلا میں اہل بیتؑ) کے سروں کو نیزوں پر کیوں چڑھایا جاتا؟ سانحۂ کربلا کے وقت یزید کی سلطنت میں 18 ہزار عُلمائے دِین موجود تھے ( انہوں نے یزید کے خلاف بغاوت کا جھنڈا بلند کیوں نہیں کِیا؟اور اُنہوں نے حضرت امام حُسینؑ پر اپنی جانیں کیوں نہ قربان کردیں؟ اگر وہ عُلماء حق پرست ہوتے تو وہ آل رسولؐ  کے خیموں کو آگ کی نذر کیوں ہونے دیتے؟ اگر اُس وقت مسلمان کہلانے والے لوگ حضورؐ  کی اطاعت / تابعداری کرنے والے ہوتے تو ، وہ اہلِ بَیتؑ کا پانی کیوں بند کرتے؟۔ اے باہوؑ ! جو لوگ حق پرست لوگوں کے لئے قربانی دے سکیں ، وہی دِین کی حفاظت کرنے والے اور سچے ہیں‘‘۔

حضرت سُلطان باہُوؒ نے سانحہ کربلا کو مُنفرد انداز میں بیان کِیا تو اُس کی روشنی دُور دُور تک پھیل گئی۔ پھر ہمارے پیارے پاکستان میں کیوں نہ پھیلتی۔ 28 جولائی 2017ء کو  سپریم کورٹ کے جسٹس آصف سعید خان کھوسہ کی سربراہی میں جسٹس اعجاز افضل خان ، جسٹس گُلزار احمد، جسٹس شیخ عظمت سعید اور جسٹس اعجاز اُلاحسن پر مشتمل لارجر بنچ کے پانچوں جج صاحبان نے متفقہ طور پر وزیراعظم نواز شریف کو آئین کی دفعہ ’’62-F-1 ‘‘ کے تحت صادق ؔاورامینؔ نہ (ہونے) پر تا حیات نا اہل قرار دے دِیا ہے‘‘۔

اِس کارروائی کو مَیں نے اپنے 30 جولائی کے کالم میں ’’ عدالتی انقلاب‘‘ کا نام دِیا تھااور لکھا تھا کہ ’’ کیوں نہ ہم سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں اور پنج تن پاک ؑکا بھی جن کی شفقت سے سپریم کورٹ کے لارجر بنچ کے پانچ جج صاحبان ’’عدالتی انقلاب ‘‘ کے بانِیانِ بن گئے ہیں۔ یقین کیا جانا چاہیے کہ اب ’’عدالتی انقلاب ‘‘ جاری رہے گا ‘‘ اور واقعی ایسا ہُوا۔ عدالتی انقلاب کا "Law Roller" تیز رفتار ہے ۔ 25 جولائی کے عام انتخابات بھی عوام کے حق میں ہیں اور پاکستان کی مسلح افواج وطن عزیز کے مفاد میں سرگرم عمل ہے۔ بیرونی اور اندرونی دشمنوں کے خلاف ۔ عُلمائے سُو تو، پہلے بھی کسی بھی انتخاب میں بھاری مینڈیٹ حاصل نہیں کر سکے؟۔ میرا وجدان کہتا ہے کہ ’’ پاکستان میں اولیائے کرامؒ کے افکار و نظریات کی روشنی میں ، علاّمہ اقبالؒ کا یہ خواب بھی شرمندہ ٔ  تعبیر ہونے والا ہے کہ …

قوت ِ عشق سے ہر پست کو بالا کردے!

دَہر میں عشقِ محمد ؐ سے اُجالا کردے!