مکرمی !ہمارے ہاں خصوصا دیہی علاقوں اور عمومی طور پہ شہروں میں بھی روایت رہی ہے کہ عید،شبِ برات ،مخصوص تہوار یا کبھی بھی کوئی بہترین ڈش کا پکوان ہوتا تو محلہ بھر کے گھروں میں تقسیم کیا جاتا،اسی طرح شادی کے چند روز بعد جب نو بیاہتا دلہن پہلی بار رسوئی میں جا کر کھانا پکانا شروع کرتی تو سب سے پہلے حلوہ،زردہ یا کوئی بھی میٹھی ڈش بنا کو پورے محلہ میں تقسیم کی جاتی تاکہ اوس پڑوس میں پتہ چل جائے کہ نئی نویلی دلہن کھانے پکانے میں کس قدر سگھڑ خاتون ہے ۔ اس سے ہمیں سبق بھی ملتا ہے کہ تقسیم کرنے سے کمی واقع نہیں ہوتی بلکہ اس سے ضرب ہوتی ہے اور لوٹ کر آپ کے ہی پاس آتی ہے،بس اس فلسفہ کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ بس بات یقین کی ہے،اللہ کرے کہ ہمارا یقین پختہ ہو جائے تو پھر دیکھئے گا کہ بس ایک اس عمل سے ہی معاشرہ کیسے خوش حال اور فلاحی معاشرہ بنتا ہے۔ (مرادعلی شاہدؔ دوحہ قطر)