نئی دہلی (رپورٹ 92 نیوز)بھارت میں بنیادی اصول تبدیل کرکے لگائے گئے حساب کتاب سے جی ڈی پی کی شرح نمو کے اعدادو شماربڑھا چڑھا کرپیش کیے گئے ،یہ شرح 2011-12 اور2016-17میں اڑھائی فیصدزائد دکھائی گئی۔درحقیقت یہ ساڑھے 4فی صد کے آس پاس ہی رہی۔اروند سبرامینیم کی تیار کردہ رپورٹ کے مطابق بھارت کی معیشت ٹھوس بنیادوں پرآگے ضروربڑھ رہی ہے لیکن اسے غیرمعمولی ترقی قرار نہیں دیا جاسکتا۔بے پناہ مقبولیت کے ساتھ دوبارہ منتخب ہونے والی ایک حکومت کو اپنی اقتصادی پالیسی کے کام یاب ثابت ہونے والے نکات کو جاری رکھنا چاہیے ۔اس میں سب سے نمایاں بنیادی ضروریات اورخدمات کی فراہمی کے ذریعے عوام کی معاشی شمولیت رہی جس میں بیت الخلا،رہائش،بجلی،کھانے پکانے کے لیے گیس ،بینک کھاتے ،ہنگامی طبی معاونت تک رسائی شامل تھی اوراب کسانوں کو کم ازکم آمدن کی فراہمی بھی اس میں شامل ہوگئی ہے ،لیکن عوامی مقبولیت حاصل کرنے والوں کو،نئے شواہد اور تازہ تفہیم کی بنیاد پر،تبدیل ہونے والے دیگر پہلوؤں سے ہم آہنگ ہونے کاحوصلہ بھی کرنا چاہیے ۔تازہ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ عالمی معاشی بحران کے بعد پیدا ہونے والے حالات میں ،بھارت کی تیز ترین ترقی کا جوبیانیہ تشکیل دیا گیا،اعداد وشماریہ بتاتے ہیں کہ حقیقت اس سے قدرے مختلف ہے ۔ ماہر معاشیات عاطف میاں نے بھی بھارتی شرح نمو کی رپورٹ پرردعمل دیتے ہوئے اپنے ٹویٹ میں بتایا کہ حاصل کردہ نتائج میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ تخمینہ کے اصولوں میں تبدیلی کرکے لگائے حساب سے 2011-12اور2016-17میں جی ڈی پی کی شرح نمو 2.5فیصد بڑھا کربتائی گئی۔ ان ادوار میں بالترتیب (کانگریس کی قیادت میں)یونائیٹڈ پروگریسو الائنس(یو پی اے ) اور(بھارتیہ جنتاپارٹی کی قیادت میں)نیشنل ڈیموکریٹک الائنس(این ڈی اے )کی حکومت تھی۔ سرکاری اندازوں کے مطابق ان ادوار میں سالانہ شرحِ نمو 7فی صد ظاہر کی گئی جب کہ حقیقی شرح نمو 4.5فی صد رہی ، جس میں ایسے وقفے بھی شامل ہیں جن میں یہ شرح 3.5 سے 5.5 فی صد بھی رہی۔ عاطف میاں کو وزیراعظم عمران خان کی حکومت نے اقتصادی مشاورتی کونسل میں بھی شامل کیا تھا لیکن شدید تنقید کے باعث عاطف میاں نے اس میں شمولیت سے معذرت کر لی تھی۔