اسلام آباد(خصوصی نیوز رپورٹر) ارکان سینٹ نے کہا ہے کہ کرونا وائرس عالمی مسئلہ بن چکا ہے جبکہ بھارتی مسلمانوں کی حمایت اورمدد کے لئے سنجیدہ اقدامات کئے جائیں، ایوان بالا کے ہر اجلاس میں کشمیر پر بحث کے لئے ایک دن مقرر ہونا چاہئے ، تاجر اور عام آدمی مہنگائی کے باعث پریشانی کا شکار ہیں۔ اپوزیشن نے کرونا وائرس کے پھیلائو پرتشویش کا اظہاراور حکومتی اقدامات کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینے کا مطالبہ کردیا۔ معاون خصوصی صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کے سینٹ اجلاس میں شرکت نہ کرسکنے کے باعث وزیرپارلیمانی امور نے کرونا وائرس پر بریفنگ کے لیے ہول کمیٹی کا اجلاس بلانے کی تجویز پیش کردی جبکہ سینیٹررضاربانی نے ایک بار پھر مطالبہ کیا کہ آئی ایم ایف سے طے پانے والے معاہدہ سے ایوان کو آگاہ کیا جائے ۔ جمعہ کو سینٹ میں تحریک پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے راجہ ظفر الحق نے کہا کہ تمام آرڈیننسز کو ایوان بالا میں پیش کرنا چاہئے ۔آئی ایم ایف ایسا ڈاکٹر ہے جس سے کسی نے شفا نہیں پائی، مہنگائی بہت بڑھ چکی ہے ، یوٹیلٹی سٹورز پر اشیاکی قیمتوں میں کمی کا عام آدمی کو فائدہ نہیں پہنچتا۔ شیری رحمنٰ نے کہا کرونا وائرس کے حوالے سے ایوان کو اعتماد میں لیا جائے ۔ سینیٹر مشاہد اللہ خان نے کہا کہ مہنگائی کا مسئلہ حل ہونا چاہیے ، بھارت میں مسلمانوں پر کھلے عام ظلم ڈھایا جا رہا ہے ، اقوام عالم کو اپنی ذمہ داری پوری کرنا ہو گی۔ سراج الحق نے کہا کہ پوری قوم مہنگائی سے پریشان ہے ، کشمیر جل رہا ہے ، بھارت میں درجنوں مسلمانوں کو شہید کر دیا گیاپاکستان اس معاملے پر قائدانہ کردار ادا کرے ۔ رضا ربانی نے کہا کہ امریکی صدر نے دورہ بھارت کے دوران کشمیریوں کی نسل کشی پر کوئی بات نہیں کی لیکن وہ مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی بات کرتے ہیں۔نکتہ اعتراض پر فیصل جاوید نے کہا سابق حکمرانوں کی پالیسیوں کے باعث مہنگائی ہے ، موڈیز جیسے عالمی ادارے تسلیم کر رہے ہیں کہ ملکی معیشت مستحکم ہے ۔ اعظم سواتی نے کہا کہ سابق حکومتوں نے بھی آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کئے ، ملک کو درپیش معاشی چیلنجز پر آئی ایم ایف سے قرض لینے کا فیصلہ کیا گیا۔ مشیر خزانہ ایوان بالا کو اعتماد میں لیں گے ۔ سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ حکومت کرونا معاملے پر چوکس اور اس سے بچاؤ کے لئے ہر ممکن اقدامات کررہی ہے ۔بعدازاں اجلاس پیر کی سہ پہر تک ملتوی کر دیا گیا۔