لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک ) تجزیہ کار ظفر ہلالی نے کہا ہے کہ ادویات کی قیمتیں بڑھنے سے پہلے کچھ لوگوں کو پتہ چل گیا تھا جس کی وجہ سے مارکیٹ سے ادویات غائب ہونا شروع ہوگئیں ۔بھارت میں ادویات میں ملاوٹ پر سزائے موت ہے ۔پروگرام نائٹ ایڈیشن میں اینکر پرسن شازیہ اکرم سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر صحت عامر کیانی نے کہا ہے کہ ہمارے ملک میں جو ادویات استعمال ہوتی ہے وہ زیادہ تر درآمد ہوتی ہیں۔چین میں ماحولیاتی آلودگی کی وجہ سے 50فیصد فیکٹریاں بند ہوگئیں جس کا اثر بھی ہمارے ملک میں ادویات کی قیمتوں پر پڑا۔گورنمنٹ کبھی بھی نہیں چاہتی کہ ادویات کی قیمتیں بڑھیں۔ہمارے ملک میں تقریباً پونے سات سو کے قریب کارخانے ہیں جہاں پر ادویات بنتی ہیں۔ادویات کی تیاری کے تمام مالیکیولز باہر سے امپورٹ ہوتے ہیں ، پاکستان میں را مٹیرل کی پیکنگ زیادہ ہوتی ہے ۔بھارت اس وقت بیس ملین ڈالر کی ایکسپورٹ کررہا ہے ۔ہم ابھی دو سو ملین تک نہیں پہنچے ۔تجزیہ کار جنرل (ر) امجد شعیب نے کہا ہے کہ جنہوں نے فارما سیوٹیکل انڈسٹری میں سرمایہ کاری کی ہے وہ کوئی رفاہی ادارے نہیں چلارہے بلکہ انہوں نے بھی اپنا کچھ منافع کمانا ہے ۔اس میں دیکھنے کی بات یہ ہے کہ ان کا جو منافع ہے وہ جائز ہے یا نہیں جو انڈسٹری چلا رہے ہیں وہ بھی پاکستانی ہیں اور جنہوں نے ادویات استعمال کرنی ہیں وہ بھی پاکستانی ہیں۔چیئرمین فارماسیوٹیکل ایسوسی ایشن زاہد سعید نے کہا ہے کہ پاکستان کی فارما انڈسٹری 95فیصد پروڈکشن پاکستان میں کرتی ہے ۔ہم کوئی لوگوں کو تکلیف دینے کی انڈسٹری تو نہیں ہیں۔ہم تو لوگوں کو ریلیف دینے کیلئے ہیں۔پاکستان میں آج بھی ادویات کی قیمتیں دنیا میں سب سے کم ہیں۔ کوئی ایسا انجکشن نہیں ہے جو پاکستان میں 7لاکھ 45ہزارروپے کا فروخت ہورہا ہو۔ڈالر پچھلے چار مہینے سے 140کے قریب چل رہا ہے تو پھر کونسا میٹریل ہے جو پچھلے چا ر مہینے سے گودام میں پڑا ہو اور اس سے منافع حاصل کرلیا گیا ہو۔ سابق آئی جی سندھ شعیب سڈل نے کہا ہے کہ ہمارے سسٹم میں کافی مسائل ہیں ، ہمیں چاہئے کہ ٹرین کے ذریعے جتنا بھی سامان آتا ہے اس کی پراپر سکیننگ ہونی چاہئے ۔ چینی سفارتخانے پر حملے کا سارا اسلحہ ٹرین کے ذریعے کراچی لایا گیا یا تو یہ سکیننگ شروع ہی نہیں ہوئی اور اگر ہوئی ہے تو پھر سسٹم ناکام ہے ۔صدر سپریم کورٹ بار امان اﷲ کنرانی نے کہا ہے کہ ریاست کے تین ستون ہیں ۔جوڈیشری،مقننہ اور ایگزیکٹو۔ بنیادی حقوق شہریوں کا دلانا ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ کا کام ہے ۔فرق صرف اتنا ہے کہ ہائیکورٹ میں متاثرہ شخص د رخواست دیتا ہے اورسپریم کورٹ کو از خود نوٹس کا حق حاصل ہے ۔