لاہور، ملتان (اپنے سٹاف رپورٹر سے ، جنرل رپورٹر، نمائندگان) بھارت نے دریائے ستلج میں بھاکڑاڈیم سے 50ہزارکیوسک پانی چھوڑدیا، لداخ ڈیم کے تین سپل ویز کھول دیئے ، الچی ڈیم سے بھی پانی چھوڑ دیاجس کے نیتجے میں دریائے ستلج اور دریائے سندھ میں سیلاب کا خدشہ پیدا ہوگیا۔ بھاکڑا ڈیم سے اچانک پانی چھوڑنے سے دریائے ستلج میں پانی کی سطح بلندہوناشروع ہوگئی،اسسٹنٹ کمشنر اوکاڑہ کے مطابق متعلقہ محکموں کو ہنگامی صورتحال کے پیش نظرالرٹ کردیا،قریبی آبادیوں کے رہائشیوں کو محفوظ مقام پرمنتقل کرنے کی ہدایات کردی گئیں،ریسکیوذرائع کے مطابق اٹاری،روہیلہ پران،باقرکے مہاراوردیگرعلاقوں میں ریسکیوکیمپ لگادیئے گئے ، دریائے ستلج میں 1988ء کے بعد یہ ایک بڑا سیلاب ہوگا جس سے ہزاروں ایکڑ زمین، سینکڑوں دیہات متاثر ہوں گے ، ترجمان این ڈی ایم اے کے مطابق دریائے ستلج میں بھارتی پنجاب سے آنیوالے پانی کے ایک بڑے ریلے کیوجہ سے ڈیڑھ سے 2لاکھ کیوسک پانی اگلے 12سے 24گھنٹوں میں گنڈاسنگھ والاکے مقام پر پاکستان میں داخل ہوگا، خود بھارتی علاقے میں دریائے ستلج کے اطراف 61 دیہات خالی کرالیے گئے ، بھارت نے روپر ہیڈورکس سے دولاکھ کیوسک پانی دریائے ستلج میں چھوڑنے کا عندیہ دیا اور ہر ایک گھنٹے بعد پانی چھوڑا جارہا ہے ۔پروانشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی پنجاب نے اتوار کی صبح دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 7741 کیوسک بتایا تھا جو نارمل سطح ہے ۔ پی ڈی ایم اے نے متعلقہ اداروں کو مراسلہ جاری کر دیا۔دریں اثنا ملک بھر کے مختلف شہروں میں بارش جاری رہی، دریائے سندھ اور دریائے چناب بپھر گئے ، جھنگ میں 20 دیہات زیر آب آگئے ، سینکڑوں ایکڑ فصلیں تباہ ہوگئیں، دریائے سندھ کے بپھرنے سے کوٹ چھینہ میں سپر بند چانڈیہ والا بند نور پور کا 200 فٹ سے زائد حصہ دریا برد ہوگیا، محکمہ اریگیشن کی نااہلی اور غفلت کے باعث کروڑوں کا نقصان ہوگیا، دریائے سندھ میں پانی کی آمد میں اضافے سے کالا باغ ، جناح بیراج اور چشمہ کے مقام پر نچلے درجے کی سیلابی صورتحال پیداہوچکی ہے ۔ ملتان، ڈی جی خان میں طوفانی بارش سے شہریوں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا ، ڈی جی خان میں مکانات کی چھتیں گرنے سے مختلف علاقوں میں 7 افراد زخمی ہوگئے ، محکمہ موسمیات کے مطابق آج پیر کے روز مالاکنڈ، ہزارہ، پشاور، مردان، کوہاٹ ،راولپنڈی، گوجرانوالہ، لاہور، سرگودھا، فیصل آباد ڈویژن ، اسلام آباد، گلگت بلتستان اور کشمیر میں بارش کا امکان ہے ،ڈی جی خان میں بھی تیز آندھی اور بارش کے ساتھ ژالہ باری بھی ہوئی اور فصلیں تباہ ہوگئیں، مختلف علاقوں میں چھتیں گرنے سے 7 افراد زخمی ہوگئے ، کوٹ چھٹہ کے علاقہ جھوک اترامیں دریائے سندھ بپھر گیا،محکمہ ایریگیش کی نااہلی کے باعث سپر بند چانڈیہ والا سپر بند نور پور کا 200 فٹ سے زائد حصہ دریا برد ہوگیا،راتوں رات کروڑوں کا نقصان ہوگیا، آبادیاں خطرات سے دوچار ہیں اور بڑی تباہی کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے ، کالا باغ ، جناح بیراج ،چشمہ کے مقام پرنچلے درجے کاسیلاب آگیا ، ریسکیو عملہ کو الرٹ کردیا گیا۔جھنگ میں فصلیں تباہ ہوگئی، کئی مکانات کو نقصان پہنچا۔