تمام اہل اسلام کو ربیع الاوّل کی آمد مبارک ہو! بلا شبہ اللہ رب العزت کا سب سے بڑا احسان ہم پر یہ ہے کہ اس نے ہمیں اپنا محبوب اس مبارک مہینے میں عطا فرمایا۔ اس مہینے کی آمد پر ہر مسلمان کا دل خوشیوں سے مزین ہو جاتا ہے۔ مگر اس مہینے کے جو تقاضے بندہ مومن سے ہیں اس کو سمجھنا ضروری ہے۔ مہینے کے آغاز کے ساتھ ہی میلاد کی محفلیں زور و شور سے شروع ہو جاتی ہیں۔ بلا شبہ ہونی چاہئیں۔ مگر میلاد والے آقاؐ کی تعلیمات کیا ہیں۔ اس کو سمجھنا بھی ضروری ہے مثلاً میں اگر محفل میلاد کا اہتمام کرتا ہوں تو مجھے یہ دیکھنا ہے کہ کیا میری وہ کمائی جس سے محفل کا اہتمام کر رہا ہوں’’ حلال ہے یا حرام‘‘۔ کسی کا حق مار کر تو مال نہیں کمایا۔ جھوٹ تو نہیں بولا۔ ملاوٹ تو نہیں کی رشوت تو نہیں لی۔ بجلی چوری کی تو نہیں۔ راستے بند تو نہیں کئے اگر یہ سب تقاضے پورے ہیں تو محفل میلاد کا مقصد جائز ہے اور پیارے آقاؐ سے محبت بھی سچی ہے کیونکہ اصل محبت اطاعت اور فرمانبرداری ہے۔محبت رسولؐ کی ’’اصل‘‘ اتباع میں ہے قاری قرآن ہو، نعت خوان ہو یا وعظ و نصیحت والے عالم اگر مقصد اور منشاء دنیاوی شہرت اور مال و دولت ہے تو یہ مجالس ان کے لئے بے مقصد اور اگر صرف اور صرف اللہ کی رضا مقصود ہے تو پھر یہ لوگ قابل صد تکریم ہیں۔ میلاد والے آقاؐ نے ہمیں نماز کا حکم دیا ہے کسی بھی حال میں نماز میں کوتاہی نہ ہو۔ جھوٹ‘ بغض کینہ حسد جیسی بیماریوں سے ہمیں بچنا ہے پھر میلاد کے تقاضے پورے ہونگے۔ اجرت کے بغیر قرآن پڑھنا۔ نعت پڑھنا اور وعظ کرنا ہمارا شیوہ بنے گا تو ہم نبیؐ اور صحابہؓ کے طریقے پر ہیں ورنہ ربیع الاوّل کے تقاضوں سے کوسوں دور ہیں۔ اللہ رب العزت ہمیں اپنی رضا اور اتباع رسولؐ کے حصول کیلئے اس مہینے کو منانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین(حافظ جاوید۔لاہور)