وزیر اعظم کی بجلی چوری کیخلاف مہم کے حوالے سے وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے ٹاسک فورس تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ جس کے تحت پہلے مرحلہ میں صنعتی و تجارتی اور زیادہ بجلی استعمال کرنے والے گھریلو صارفین کیخلاف ایکشن لیا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کا کہنا ہے کہ بجلی چوری روکنے کا آپریشن بلا امتیاز ہو گا اور بڑے بجلی چوروں پر پہلے ہاتھ ڈالا جائے گا۔ وزیر اعظم عمران خان نے رواں سال اگست کے اواخر میں بجلی چوری روکنے کے لیے ٹاسک فورس بنانے کی ہدایت کی تھی۔ بجلی چوری ملک میں موجود توانائی کے بحران کی بڑی وجہ ہے، حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی محکمے کی ملی بھگت کے بغیر کرپشن نہیں ہو سکتی۔ بڑے بڑے صنعتکاروں اور تاجروں نے بجلی چوری کے اپنے نیٹ ورک بنا رکھے ہیںجس کے نتیجہ میں کئی برسوں سے ملک کو بجلی کے بڑے بحران کا سامنا ہے۔ یہی نہیں بعض بڑے گھروں کی طرف سے بھی بجلی کے بڑے بلوں سے بچنے کے لیے اس طرح کی ہیرا پھیری کی جا رہی ہے اور اس کا زیادہ تر بوجھ غریب گھرانوں کو اٹھانا پڑتا ہے۔ جن کے لیے بجلی کا ماہانہ بل ادا کرنا بھی مشکل ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ بجلی چوری کے خلاف بھرپور اور بلا امتیاز آپریشن کیا جائے اور کسی رشتہ داری، قرابت اور سیاسی وابستگی کو اس میں حائل نہ ہونے دیا جائے۔ بجلی چوری بھی درحقیقت مقررہ حد سے تجاوز کرنے کے مترادف ہے اور ان کیخلاف بھی ویسا ہی آپریشن کیا جانا چاہیے جیسا قبضہ مافیا اور ناجائز تجاوزات کیخلاف کیا جا رہا ہے۔ اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ پہلے بڑے مگر مچھوں کو ہی پکڑا جائے اور اس کے دوران محکمہ کے ایسے اہل کاروں کیخلاف بھی کارروائی کی جانی چاہیے جو بجلی چوری میں ان چوروں کی معاونت کرتے ہیں تاکہ آپریشن سے مطلوبہ مقاصد حاصل کیے جا سکیں۔