کورونا کیا آیا کہ ہر طرف نفسا نفسی کا راج کہ ہر سو پریشانی ایسی کہ الامان۔ یہ احساس انسانوں تک محدود نہیں بلکہ چرند ہو کہ پرند،اڑنے والے پرندے ہوں کہ رینگنے والی مخلوق اس عالم میں انکی آنکھوں میں موت کا رقص عیاں ہے۔ان کی خامشی سوالات پوچھ رہی ہے۔ یہ کن گناہوں کی سزا ہے۔ یہ موضوع اس قدر وسیع ہے کہ اس کا احاطہ تقریباً ناممکن ہے۔ بہرحال اس کا جواب تلاش کرنا پڑے گا۔قدرتی آفات کا سلسلہ ابد سے ہے اور ازل تک رہے گا اس بات کا تذکرہ قرآن شریف میں کھل کر بیان کر دیا گیاہے پھر پوچھا جاتا ہے کہ قرآن شریف کہاں سے آیا ہے۔ قرآن شریف اللہ تعالیٰ نے وحی کی صورت میں حضرت محمد ﷺ پر اتارا۔ جس کے تمام نسخے ایک جیسے ہیں۔ قدرتی آفات انسانوں کو احساس دلاتی ہے کہ اس کائنات کا مالک خداوند کریم ہے۔ مزید یہ کہ کائنات کے مالک نے انسانوں کو گناہوں سے باز رکھنا ہے اور انسان اللہ تعالیٰ کی محبت میں گرفتار ہو جائے تو اس کیلئے اس سے بڑا انعام کیا ہو سکتا ہے۔ ایسے انسان نہ صرف گناہوں سے اجتناب کرتے ہیں بلکہ وہ ایسی تربیت گاہ بن جاتے ہیں جہاں سے طالب علم اعلیٰ اقدار کے پیکر بن جاتے ہیں۔ وہ نہ صرف حقوق اللہ کی مکمل پابندی سے عمل پیرا رہتے ہیں اور حقوق العباد ادا کرتے ہیں۔ اپنے ہمسایوں کے غم اور خوشی میں عملی طور پر شریک ہوتے ہیں۔ جہاں بھی ضرورت مند نظر آئے تو اپنی دولت کا کثیر حصہ ان پر صرف کرتے۔ حتیٰ کہ خود بھوکے رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ کیا یہ بات حقیقت نہیں ہے کہ جب عرب کے بدو اللہ کی محبت میں گرفتار ہوئے تو صرف چالیس سالوں میں تمام تہذیبیں بدوئوں کے آگے پاش پاش ہو گئیں اور پھر دنیا نے دیکھا کہ حضرت عمر فاروقؓ مہار پکڑے جا رہے تھے اور اونٹ پر ان کا غلام بیٹھا ہوا تھا۔ تمام بیوائوں کا وظیفہ مقرر تھا۔ صورتحال یہاں تک پہنچی کہ زکوٰۃ دینے والوں کو کوئی ضرورت مند نہیں ملتا تھا جو زکوٰۃ کا متمنی ہو۔ اس بات کی کوئی شہادت موجود نہیں ہے کہ کسی نے عورت کی عصمت ریزی کی ہو یا حریصانہ نظروں سے دیکھا ہو۔ اختلافات بھی ہو ںتو بھی اطاعت میں لغزش کا شائبہ تک نہیں تھا۔ وہ قرآن شریف کی جیتی جاگتی تصویر تھے۔ رسول اللہؐ کے احکام کی مکمل پیروی کی بلکہ انصاری ہو یا مہاجرین ایک دوسرے سے بڑھ کر عمل کیا۔ اگر کبھی مقابلے میں باپ سامنے آ جائے جو احکام الہٰی کا منکر ہو تو بیٹے نے اس کا سر تن سے جدا کر دیا۔ اس لئے کہ دین محمد میں اس بات کی کوئی گنجائش ہی نہیں تھی۔ پھر آہستہ آہستہ جب مسلمان فرقوں میں بٹ گئے تو ان کی دھاک بھی ریزہ ریزہ ہو گئی۔ چھوٹی چھوٹی بات پر ان میں جھگڑے شروع ہو گئے۔ حالت یہاں تک پہنچی کہ وہ ایک دوسرے سے دست و گریبان بھی ہو گئے۔ جو ملک مسلمان نے سرنگوں کیا وہاں الگ حکومتیں بن گئی۔ اس کی بڑی مثال ایران ہے جہاں بالکل نئی سلطنت وجود میں آئی۔ اسلام سے انحراف کا نتیجہ یہ نکلا کہ مسلمان در بدر ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ ان کو حقارت آمیز نظروں سے دیکھا جاتا ہے۔ مقابلے کی دوڑمیں لوگ سمندر پار جانے کی کوشش کرتے کبھی کنٹینر میں بیٹھ کر یا کبھی کشتی میں۔ ان میں کثیر تعداد اپنی جانیں کھو بیٹھتے ہیں۔ یہ سلسلہ پھر بھی جاری رہتا ہے۔ کاش فرقوں میں ہم آہنگی پیدا ہو تو مسلمان اپنی کھوئی عزت، مقام دوبارہ حاصل کر لیں۔ اگر نہیں تو قدرتی آفات کا سلسلہ جاری رہے گا۔ اب بھی وقت ہے کہ ہم سب احکام الہٰی کی طرف لوٹ جائیں۔ ایک دوسرے کی مدد کریں، ان کی عزت کا خیال رکھیں۔ مائیں بہنیں بیٹیاں سانجھی ہوتی ہیں۔ اگر معاشرہ اسی طرح تشکیل پا جائے تو ہر طرف آپ کو امن نظر آئے گا اور خوشحالی بھی۔ شرط یہ ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی محبت میں گرفتار ہو جائیں اور اس کے محبوب ؐ سے دیوانہ وار پیار کریں۔ مگر کاش!